انوارالعلوم (جلد 2) — Page 326
۳۲۶ بیعت لی گئی اور حکومت ہوگئی لیکن یہاں ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات پائی جاتی ہے نہ ہی باپ کے بعد فوراً خلیفہ ہوا اور نہ والد صاحب نے اپنے سامنے جبرواکراہ سے لوگوں کو میری بیعت پر مجبور کیا۔پس ایک جبری کثرت اور دلوں کے کھِنچ لانے میں آپ فرق نہیں کر سکتے۔کیا خدائے تعالیٰ کی تائید و نصرت سچائی کا ایک زبردست ثبوت نہیں؟ پھر اس معاملہ میں آپ اس کو کیوں غلط قرار دیتے ہیں؟ خواجہ صاحب کا ایک یہ بھی سوال ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ قادیان مکرم مقام ہے اس کو چھوڑ کر جانا غلطی پر دلالت کرتا ہے یہ غلط ہے کیونکہ مکہ بھی ایک مکرم مقام ہے لیکن وہ غیراحمدیوں کے پاس ہے جو آپ کے نزدیک مسلمان نہیں۔اوّل تو یہ دلیل نہیں کیونکہ اگر ایک طور پر پہلا دعویٰ کرنے والے پر یہ حجت ہے تو خواجہ صاحب اور ان کی پارٹی پر بھی تو حجت ہے کیونکہ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ خواجہ صاحب آپ کے نزدیک تو مکہ مدینہ مسلمانوں کے ہی قبضہ میں ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ مکرم مقامات حقیقی وارثوں کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک جماعت خراب ہو جائے اور مرکز اس کے پاس رہے جب تک کہ نئی جماعت ترقی کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع زمانہ میں مکہ مشرکوں کے پاس تھا یا یروشلم مسیح کے زمانہ میں یہود کے پاس تھا لیکن اس بات کا ثابت کرنا خواجہ صاحب کو مشکل ہوگا کہ ابھی کامل ترقی ہونے سے پہلے ہی ایک مقامِ متبرک ایک پاک جماعت کے پاس آ کر ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کے سب افراد گندے اور کافر ہو جائیں اس طرح تو امان بالکل اُٹھ جاتا ہے اور ان تمام پیشگوئیوں پر پانی پھِر جاتا ہے جو اس جگہ کے رہنے والوں کے متعلق ہیں۔دوسرے یہ دلیل کوئی ایسی نہیں کہ جس پر فیصلہ کا مدار ہو ایسی باتیں تو ضمناً پیش ہوا کرتی ہیں ہاں یہ کہہ دینا بھی ضروری ہے کہ حضرت علیؓ کے مدینہ چھوڑ دینے کی دلیل درست نہیں جب آپ مدینہ سے تشریف لے گئے تو صرف میدانِ جنگ کے قریب ہونے کے لئے تشریف لے گئے ورنہ مدینہ آپ کے قبضہ میں تھا اور مدینہ کے لوگ آپ کے ساتھ تھے اور یہی حال مکہ کا تھا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ ’’کہا جاتا ہے کہ مولوی محمد علی کی ذلّت ہوئی لوگوں نے ان کو تقریر سے روک دیا۔یہ بات وہ کہہ سکتے ہیں جنہیں وہ تکالیف معلوم نہیں جن کا سامنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کرنا پڑا‘‘ مجھے افسوس ہے کہ یہ جواب بھی درست نہیں کیونکہ دونوں معاملوں میں ایسا کھلا فرق ہے جس کو ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام محمد حسین بٹالوی کو