انوارالعلوم (جلد 2) — Page 325
۳۲۵ کے اس کی اتباع کریں کیونکہ اتحاد رکھنا ضروری ہے اور اتحاد بغیر ایک مرکز کے نہیں ہو سکتا اور خواہ ایک انسان افسر ہو یا بہت سے ہوں وہ غلطی سے پاک نہیں ہو سکتے پس اتحاد کے قیام کیلئے قیاسات میں امام کی خطا کی بھی پیروی کرنے کا حکم ہے سوائے نصوصِ صریحہ کے۔مثلاً کوئی امام کہے کہ نماز مت پڑھو، کلمہ نہ پڑھو، روزہ نہ رکھو اس کی اتباع فرض نہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک امام اگر چار کی بجائے پانچ یا تین رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے تو مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی کے علم کے اس کی اتباع کریں۔لیکن اگر وہ اُٹھ کر ناچنے لگ جائے یا مسجد میں دوڑنے لگے تو اب مقتدیوں کو حکم نہیں کہ اس کی اتباع کریں کیونکہ اب قیاس کا معاملہ نہیں رہا بلکہ جنون یا شرارت کی شکل آگئی ہے لیکن یہ مثالیں بفرضِ محال ہیں ورنہ خدائے تعالیٰ جس کو امام بناتا ہے اسے ایسے اعمال سے بچاتا ہے جو قومی تباہی کا موجب ہوں۔آپ نے اپنے اس مضمون میں خلافت کے ردّ میں ایک یہ دلیل بھی دی ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اکثروں نے مان لیا یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر ابوبکرؓ، عمرؓ کو اکثروں نے مان لیا تو یزید کو بھی تو مان لیا مگر خواجہ صاحب یہ مثال پیش کرتے وقت ان واقعات کو نظر انداز کر گئے ہیں جو ان دونوں قسم کی خلافتوں کے وقت پیش آئے۔ابوبکرؓ اور عمرؓ کی خلافت پر اتفاق کرنے والوں میں صحابہؓ کا گروہ تھا یزید کے ہاتھ پر اکٹھا ہونے والی کون سی جماعت تھی۔کیا صحابہ کی کثرت تھی ؟ صحابہ کے لئے خدائے تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے تھے اسی طرح اس جماعت کے لئے بھی بڑے بڑے وعدے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر سلسلہ میں داخل ہوئی۔اور جس طرح صحابہؓ کی کثرت نے اوّل الذکر دونوں بزرگوں کو تسلیم کیا اسی طرح اس جماعت کے کثیر حصہ نے مجھے تسلیم کیا جو مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر سلسلہ میں داخل ہوئی تھی۔اگر اسی جماعت کا اکثر حصہ ضلالت پر جمع ہو گیا تو یہ بے شک شیعوں والا عقیدہ ہے جو چند کے لئے کثیر حصہ کو بدنام کرتے ہیں۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ خلافت تو مشورہ سے ہوتی ہے دوسرے باپ کے بعد بیٹا فوراً خلیفہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ احادیث اور صحابہؓ کے اقوال سے ثابت ہے امرِ اوّل کے لئے آیت اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ (النساء۵۹)یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانات ان کے اہلوں کو دو اور حدیث لَاخِلَافَۃَ اِلاَّ بِالْمَشْوَرَۃِ۲۲؎ اور امر دوم کے لئے حضرت عمرؓ کا قول اور صحابہؓ کی تسلیم۔لیکن یزید کی خلافت کیونکر ہوئی۔باپ نے اپنی زندگی میں جبراً سب سے اس کی بیعت کروائی۔ہم حضرت معاویہ کی نیت پر حملہ نہیں کرتے لیکن ان کے اس فعل کی وجہ سے یزید کی خلافت خلافت نہ رہی بلکہ تلوار کے ذریعہ سے