انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 302

۳۰۲ ہمارے استدلال سے اس فتویٰ کو باہر نکال دیا۔اور خداتعالی ٰنے اپنے ناطق فیصلہ سے ظاہر فرمایا کہ وہ احمدیوں کا کس راہ پر قدم زن ہو ناپسند فرماتا ہے۔پس اصل وجہ یہی ہے جو ہر جگہ یکساں قائم ہے۔اللہ تعالی ٰنے اپنے فیصلہ میں کسی قوم یا ملک کو مستثنی ٰ نہیں فرمایا۔پس کون ہے جو اس فتوے کے علم کے باوجود اس کے خلاف عمل کرے۔حضرت مسیح موعودؑنے اپنے فتووں میں اس حکم کی تشریح فرما دی ہے۔اور غیر ممالک کے جانے والوں کو بھی غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔بلکہ جو شخص غیراحمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔اس کے متعلق یہ فتوی ٰدیا ہے کہ کوئی احمدی اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔چنانچہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے یہ جواب عطا فرمایا ہے۔\" جواحمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔جب تک توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو"۔(فتاوٰیٰ احمدیہ جلد اول صفحہ ۲۲) باقی رہا ہے کہ خلیفہ اپنی وفات تک غلطی پر قائم نہیں رہتا۔یہ ایک من گھڑت اصل ہے۔یہ انبیاءکی نسبت حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے نہ خلفاء کی نسبت۔پس آپ کا یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ حضرت خلیفہ اول اس عقیدہ پر اور مسئلہ کفر پر آپ کے خیال کے مطابق آخر دم تک قائم رہے تو اس سے آپ کی تائید ہوئی غلط ہے۔نماز کے متعلق حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود کا فتویٰ معلوم نہ تھا۔ایک فتویٰ آپ کی سخت بیماری میں آپ کو دکھایا گیامگروہ مکمل نہ تھا۔اس لئے اس کے متعلق حضرت (صاحب) فیصلہ نہیں کر سکے۔اور نہ وہ وقت ایسا تھاہی کہ آپ فیصلہ کر سکتے۔باقی رہا کفر کا مسئلہ۔اس کے متعلق میرے پاس حضرت( صاحب) کی تحریر موجود ہے۔آپ کے مختلف حوالہ جات جن سے آپ کامذہب ظاہر ہوتا ہے وہ شائع ہو چکے ہیں۔میں نے اپنے پاس سے نہیں بلکہ مسیح موعود کا اعتقاد ایک رسالہ میں لکھ کر شائع کیا تھا۔اس پر آپ نے تصدیق کی۔وہ مضمون اب تک آپ کا اصلاح کرده موجود ہے۔ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے۔کہ آپ مذہب فتوائے کفر میں میرے خلاف تھا۔آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے مضامین پر بھی حضرت (صاحب) کے دستخط ہیں۔مگر اس اختلاف کی صورت میں ہم ان فتووں کو دیکھیں گے۔جو آپ نے خود بخود دئیے ہیں۔یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی رائے کی نسبت ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کیا تھی؟ لیکن آپ کا کوئی حق نہیں کہ خلاف واقعہ اسے اپنی تائید میں پیش کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے ایک دوست نے مشہور کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ کفر کا مسئلہ میاں صاحب نہیں سمجھے۔لیکن یہ بالکل جھوٹ ہے۔وہ اپنے بیان پر قسم کھاجائے تو میں