انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 13

۱۳ طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر میں صرف اشارات پر اکتفا کیا اسی طرح آپؑ نے بھی اشارات کو ہی کافی سمجھا کیونکہ ضرور تھا کہ جس طرح پہلی قدرت یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے وقت ابتلاء آئے دوسری قدرت یعنی سلسلۂ خلافت کے وقت بھی ابتلاء آتے۔ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ خلیفہ اپنے پیش رَو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء مُلک و دین دونوں کی حفاظت پر مأمور تھے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی دونوں بادشاہتیں دی تھیں لیکن مسیح موعود علیہ السلام جس کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جمالی ظہور ہوا صرف دینی بادشاہ تھا اس لئے اس کے خلفاء بھی اسی طرز کے ہوں گے۔پس جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کیلئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اِس بات کو ردّ کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو ردّ کرتا ہے صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خدا تعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے۔جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔پس اے جماعت احمدیہ! اپنے آپ کو ابتلاء میں مت ڈال اور خدا تعالیٰ کے احکام کو ردّ مت کر کہ خدا کے حُکموں کو ٹالنا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔اسلام کی حقیقی ترقی اُس زمانہ میں ہوئی جو خلافت راشدہ کا زمانہ کہلاتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی ترقیوں کو مت روک اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مت مار۔کیسا نادان ہے وہ انسان جو اپنا گھر آپ گراتا ہے اور کیا ہی قابلِ رحم ہے وہ شخص جو اپنے گلے پر آپ چھُری پھیرتا ہے پس تُو اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج مت بو اور جو سامان خدا تعالیٰ نے تیری ترقی کیلئے بھیجے ہیں اُن کو ردّ مت کر کیونکہ فرمایا ہے لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراہیم ۸)البتہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی راہ اختیار کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔یہ ایک دھوکا ہے کہ سلسلۂ خلافت سے شرک پھیلتا ہے اور گدیوں کے قائم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ آج سے تیرہ سَو سال پہلے خدا تعالیٰ نے خود اس خیال کو ردّ فرما دیا ہے کیونکہ خلفاء کی نسبت فرماتا ہے یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـا (النور،۵۶)خلفاء میری ہی عبادت کیا کریں گے اور