انوارالعلوم (جلد 2) — Page 246
۲۴۶ گے تو یقینا یقینا تمہارے اعمال کے نتیجے بڑھ چڑھ کر نکلنے شروع ہو جائیں گے۔جو کرو سمجھ کر کرو: بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک کام کرتے ہیں مگر انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ کیوں کرتے ہیں۔وہ عاد تاً اس کام کو کرتے ہیں جس کا انہیں کوئی نتیجہ نہیں ملتا۔دیکھو ایک مسلمان بائیں ہاتھ سے روٹی نہیں کھاتا بلکہ دائیں سے کھاتا ہے۔جانتے ہو وہ کیوں دائیں سے کھاتا ہے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے حکم دیا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤ۔مگر بتلاؤ کہ کتنی دفعہ کھانا کھاتے وقت تمہیں یہ خیال آیا ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔اپنی زندگی کے پچھلے ایک سال دو سال تین سال یا چار سال پر غور کرو کہ کتنی دفعہ تمہیں یہ خیال آیا ہوگا۔بہت سے مسلمان تو ایسے بھی ہوں گے جنہیں ساری عمر میں بھی کبھی یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ ہم دائیں ہاتھ سے کیوں کھاتے ہیں اور بائیں سے کیوں نہیں کھاتے۔دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا نیکی کا کام ہے کیونکہ جو ایسا کرتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا حکم مانتا ہے لیکن جو دائیں ہاتھ سے اس لئے نہیں کھاتا کہ یہ رسول اﷲ ﷺ کا حکم ہے بلکہ اس لئے کھاتا ہے کہ بچپن سے اسے اسی کا عادی کیا گیا ہے تو وہ کسی ثواب کا مستحق کس طرح ہو سکتا ہے۔وہ ہرگز ثواب کا مستحق نہیں ہے۔چھوٹے بچوں کو جب رات کے وقت پیشاب آتا ہے تو وہ اوندھے منہ اس طرح لیٹ جاتے ہیں جیسے سجدہ کرتے ہیں۔مگر کیا وہ اس فعل سے کسی ثواب کے مستحق ہو جاتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو پیشاب کی وجہ سے اس طرح ہوتے ہیں۔پس بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو عادتاً کئے جاتے ہیں۔اور یہ ایک ایسا نقص ہے جو بہت خراب کرتا ہے۔گویا یہ زنگ ہے جو انسان کے دل پر جم جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عادتاً کئے ہوئے کاموں کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا خاص طور پر ارادہ کر کے کام کرنے سے ہوتا ہے۔اسلام میں اس قدر خوبیاں ہیں کہ یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا کہ اگر اسلام کو کسی کے سامنے پیش کریں تو وہ اس کے ماننے سے انکار کر دے۔میں نے اس بات پر بہت غور کیا ہے کہ جب اسلام اس خوبی کا مالک ہے تو پھر کیوں تمام کے تمام لوگ اسے مان نہیں لیتے۔اس کی وجہ مجھے یہی معلوم ہوئی ہے کہ چونکہ غیر مسلم لوگوں کے کانوں میں بچپن سے اور باتیں پڑتی رہتی ہیں اور وہ اسلام کے خلاف باتیں سنتے رہتے ہیں اس لئے جب وہ اسلام کی تعلیم کو سنتے ہیں تو انکار کر دیتے ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک ایم اے عیسائی تو اسلام کی خوبیاں نہ سمجھ سکے لیکن ایک مسلمانوں کے گھر پیدا ہونے والا جاہل سے جاہل یہی کہے کہ اسلام سچا مذہب ہے اور باقی سب جھوٹے ہیں۔یہ شخص تو اس لئے یہ بات کہتا ہے کہ اس کے ماں باپ مسلمان تھے جن کی وجہ سے