انوارالعلوم (جلد 2) — Page 245
۲۴۵ اپنے عملوں کے اپنی آنکھوں کے سامنے نتیجے نکلتے دیکھ لو گے۔تم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے سیدھی راہ پر چل رہے ہو لیکن اب بھی سخت احتیاط اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔کیونکہ شیطان کا کام ہے کہ وہ کبھی دنیا کی راہ سے آکر اور کبھی دین کی راہ سے آکر دھوکا دیتا ہے اس لئے جس بات سے میں تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم جتنی بھی عبادتیں کرو وہ اس نیت سے کرو کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔اس کے سوا اور کوئی تمہاری نیت نہیں ہونی چاہئے۔تم اپنے نفسوں میں غور کر لیا کرو کہ اب جو ہم نماز پڑھنے لگے ہیں تو یہ خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے ہے یا کسی اور نیت سے۔جب تم چندہ دیتے ہو تو اس وقت خیال کر لیا کرو کہ کتنی دفعہ ہم نے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیا ہے یا چندہ مانگنے والے نے کہا کہ دو اور تم نے دے دیا اور تمہاری کوئی نیت نہ تھی۔مانگنے والے نہیں جانتے کہ تم نے کس نیت سے دیا ہے لیکن تم دینے والے خوب جانتے ہو کہ دیتے وقت کیا نیت تھی۔تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم نے دین کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے دیا ہے۔پس اسی طرح تمہارے ہر کام میں خدا تعالیٰ ہی مد نظر ہونا چاہئے اور تم اسی کے راضی کرنے کی نیت ہر کام میں کیا کرو۔جب تمہاری ہر کام میں یہ نیت ہوگی تو تمہاری عبادتیں آج اور کل اور پرسوں اور ترسوں اور نتائج پید اکریں گی اور تمہاری دن بدن ترقی ہی ہوتی جائے گی۔دیکھو ایک کام ایک نیت سے اور اجر پیدا کرتا ہے۔اور وہی کام دوسری نیت سے اور اجر۔اگر کوئی شخص ایک آدمی پر زنبوریا بچھو بیٹھا ہوا دیکھے تو وہ جانتا ہے کہ اگر میں نے زنبور یا بچھو کو آہستہ سے پکڑایا ہٹایا تو وہ ضرورکاٹے گا اس لئے وہ زور سے تھپڑ مار کر اسے ما ر دیتا ہے اور اس کا ایسا کرنا تھپڑ کھانے والے آدمی کے منہ سے کلمات شکر نکلواتا ہے۔لیکن اگر کوئی کسی کو دکھ دینے کے لئے تھپڑ مارے تو وہ سزا پائے گا۔تو ایک ہی کام سے نیتوں کے فرق سے دو مختلف نتیجے نکل آتے ہیں۔پس تم عاد تاً کوئی عبادت اور نیک کام نہ کرو۔بلکہ نیتاً کرو۔کئی آدمی کہتے ہیں کہ قوم کے لئے روپیہ دو۔قوم کے لئے چندہ جمع کرو۔قوم کے لئے یہ کرو اور وہ کرو میں کہتا ہوں قوم کیا چیز ہے۔تم قوم کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے سب چندے دو۔اور کبھی یہ گناہ کے لفظ منہ سے نہ نکالو۔کیا تم سے پہلے قومیں نہ تھیں ؟ کیا تمہارے پہلے عزیز اور رشتہ دار نہیں تھے؟ جب تھے تو اس نئی جماعت کے بننے کی کیا ضرورت تھی ؟ جسے تم قوم قوم کہتے ہو۔تم خوب یاد رکھو کہ قوم کوئی چیز نہیں ہے۔خدا تعالیٰ ہی ایک چیز ہے۔پس تمہارے سب اعمال خدا تعالیٰ کے لئے ہی ہوں۔تمہاری ایک ایک حرکت اٹھنا بیٹھنا ‘چلنا ‘پھرنا‘سونا جاگنا سب کچھ خدا کے لئے ہی ہو۔اگر تم ایسا کرو