انوارالعلوم (جلد 2) — Page 214
۲۱۴ داری اور شرافت ہو تو وہی اعلیٰ خاندان ہے۔اور اگر کوئی سید بھی ہے اور دین سے بے بہرہ ہے تو بھی وہ شریف نہیں ہے۔قرآن شریف نے ذاتوں کے متعلق کیا ہی خوب بیان فرمایا ہے کہ’’ ییاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثیٰ وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْباً وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْم ٌ خَبِیْرٌ۔‘‘( الحجرات :۱۴) اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک عورت اور مرد سے پیدا کیا ہے۔(اگر اس سے حضرت آدم ؑ اور حوا مان لئے جائیں تو یہ معنے ہوئے کہ)پھر تم کو ایک دوسرے پر فضیلت ہی کیا ہے جبکہ تم ایک ہی عورت اور مرد کی پیدائش سے ہو۔پس تم کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے یا یہ معنے ہوئے کہ تم سارے کے سارے عورت کے پیٹ سے ہی پید ا ہوئے ہو جس طرح ایک پیدا ہو ا ہے اسی طرح دوسرا ہوا ہے اور اسی طرح جس طرح ایک مرد کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے اسی طرح دوسرا بھی ہوا ہے۔تو پھر تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت کس طرح ہو سکتی ہے۔اس حصہ آیت میں خدا تعالیٰ نے ناواجب فضیلت کا ردّ کیا ہے کہ تم تو ایک ہی ہو۔پھر ایک دوسرے پر فضیلت کیسی۔پھرفرمایا وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْباً وَ قَبَائِلَ اور ہم نے تم کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے اس حصہ آیت میں یہ فرمایا ہے کہ قومیں اور قبائل بھی کوئی شے ہیں آگے چل کر فرمایا کہ لِتَعَارَفُوْا یعنی ان قوموں اور قبائل کی تقسیم کی غرض یہ نہیں کہ تم ایک دوسرے پر فخر کرو یا دوسروں کو حقیر خیال کرو بلکہ اس کی غرض تو صرف اتنی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی شناخت اور تعارف ہو سکے۔جیسے گورنمنٹ اپنی فوجوں اور محکموں میں تقسیم کر دیتی ہے۔جو چیز کثرت سے ہو اس کے افراد کو شناخت کرنے کے لئے کوئی تدبیر ہونی چاہئے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قوموں کا رواج شروع ہوا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ بھی اسی حکمت کی طرف لوگوں کو متوجہ فرماتا ہے کہ شعوب و قبائل کی اصل غرض اسی قدر ہے۔دیکھو گورنمنٹ کی فوج چونکہ وسیع ہوتی ہے اس لئے وہ پہلے الگ الگ ڈویژن مقرر کرتی ہے پھر ڈویژنوں میں خصوصیت پیدا کرنے کے لئے ان کے نام لکھ دیتی ہے۔پھر رجمنٹیں پھر پلٹنیں پھر کمپنیاں بناتی ہے اور یہ سب تقسیم کام میں سہولت اور تعارف کے لئے کی جاتی ہے۔مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ فلاں آدمی گورنمنٹ کی فوج کا سپاہی ہے تو اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہ کہاں رہتا ہے کس جگہ اس کی فوج ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ فلاں کمپنی فلاں پلٹن اور فلاں چھاؤنی کا سپاہی ہے تو فوراً اس کا پتہ لگ جاتا ہے۔اسی طرح قوموں کے نام ہیں۔پھر فرمایا کہ یہ بات بھی نہیں کہ سب لوگ ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں بعض لوگ زیادہ