انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 200

میں حصہ لینے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیئے۔اگر کسی مکان کو آگ لگ جائے تو اس وقت یہ نہیں کہا جاتا کہ سقہ کو بلاؤتاکہ وہ پانی لا کر آگ بجھائے کیونکہ وہ پانی مہیا کرنے پر مقرر ہے اور اس کام کی تنخواہ لیتا ہے اگر وہ آج کام نہیں آتا تو اسے نوکر کس لئے رکھا ہوا ہے بلکہ ہر ایک شخص دوڑتا اور بھاگتا ہوا جاتا ہے۔تاکہ آگ پر پانی ڈالے اور اس کو بجھائے اور عورتیں اور بچے بھی اس کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔اسی طرح اس وقت اسلام کے گھر کو دشمن نے آگ لگائی ہوئی ہے اور احمق ہے وہ جو اس انتظار میں بیٹھے کہ سقے اس آگ کو بجھائیں۔اس عظیم الشان آگ کو جو اسلام کے مکان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے ایک دو آدمی نہیں بجھا سکتے بلکہ ہر ایک شخص کا جو اپنے دل میں ذرہ بھی ایمان رکھتا ہے کام ہے کہ وہ اس آگ کو بجھا نے میں لگ جائے اور تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے خواہ مرد ہو یا عورت ،جوان ہو یا بوڑھا ،بچہ ہو یا نوجوان ،لڑکی ہو یا لڑکا کہ وہ اس آگ کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔اگر کوئی ایسے وقت میں بھی غفلت کرتا ہے تو وہ اسلام میں نہیں ہے۔پس ایسے زمانہ میں جبکہ اسلام کی حالت یہاں تک نازک ہو گئی ہے اگر حضرت مسیح موعود ؑ لوگوں کو سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی اجازت دے دیتے تو بہت سا حصہ جماعت کا اس میں لگ جاتا اور اسلام کی خدمت سے الگ ہو جاتا حالانکہ اسلام کو اس مدد کی سخت احتیاج ہے۔اور جبکہ اس کی فوج آگے ہی قلیل ہے تو وہ اس قلیل فوج میں سے کچھ فوج کو اور کام میں کیونکر لگا سکتا ہے۔نادان ہے وہ انسان جو اس وقت سیاست کی کشمکش کو دیکھ کر اور پھر اسلام کی حالت کو معلوم کر کے سیاست کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اسے دین کے متعلق خدمت کرنے کی کب فرصت ملے گی۔چونکہ سیاست میں پڑ کر انسان کو بہت جلد دنیا میں عزت و شہرت حاصل ہونے لگتی ہے اس لئے لوگ اس نزدیک کے فائدہ کی خاطر دین کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔اور اس زمانہ میں تو دنیا کی کشش یوں بھی زیادہ ہے پس سیاست جس قدر بھی انسان کو اپنی طرف کھینچے تھوڑا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ پسند نہ کیا کہ جو تھوڑے سے آدمی ان کے ساتھ شامل ہیں ان کو بھی آپ سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے کر اپنے ہاتھ سے کھو دیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں سیاست کے چھوڑنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے، ہم تحصیلدار ،ڈپٹی اور دیگر سرکاری عہدے حاصل نہیں کر سکے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے چھوڑنے سے خدا ملتا ہے اور نہ چھوڑنے سے دنیا۔پس اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو۔اور اگر نزدیک کی خوشی پسند کرتے ہو یعنی دنیا کی تو پھر جو تمہاری مرضی ہے وہ کرو۔اس صورت میں ہمارا تم پر کوئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ مجبوراً تمہیں روک دیں۔