انوارالعلوم (جلد 2) — Page 188
۱۸۸ واضح طور پر پورے ہوئے ایک امر تعبیرطلب بھی تھا لیکن رؤیا کی صداقت پر باقی چار امور نے مُہر کر دی تھی اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرہویں رات کے چاند کو کہتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں ایک قسم کا اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہوگا۔چنانچہ وصیت باقاعدہ طور پرجو شائع ہوئی یعنی اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔مسئلہ خلافت کے متعلق ساتویں آسمانی شہادتاس بات کو قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوا یا کچھ کم کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جا رہی ہے کہ راستہ میں کسی نے مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر دی تو میں نے گاڑی والے کو کہا کہ جلدی دَوڑاؤ تا میں جلدی پہنچوں۔یہ رؤیا بھی میں نے حضرت کی وفات سے پہلے ہی بہت سے دوستوں کو سنائی تھی (جن میں سے چند کے نام یاد ہیں۔نواب محمد علی خان صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور غالباً ماسٹر محمدشریف صاحب بی۔اے پلیڈر چیف کورٹ لاہور) کہ مجھے ایک ضروری امر کے لئے حضرت کی بیماری میں لاہور جانے کی ضرورت ہوئی اور چونکہ حضرت کی حالت نازک تھی میں نے جانا مناسب نہ سمجھا اور دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں؟ اور ان کو بتایا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ میں نے رؤیا میں گاڑی میں سواری کی حالت میں حضرت کی وفات دیکھی ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ یہ واقعہ ابھی ہو جائے۔پس میں نے یہ تجویز کی کہ ایک خاص آدمی بھیج کر اس ضرورت کو رفع کیا۔لیکن منشائے الٰہی کو کون روک سکتا ہے۔چونکہ حضرت ، نواب صاحب کے مکان پر رہتے تھے میں بھی وہیں رہتا تھا اور وہیں سے جمعہ کے لئے قادیان آتا تھا۔جس دن حضور فوت ہوئے میں حسب معمول جمعہ پڑھانے قادیان آیا اور جیسا کہ میری عادت تھی نماز کے بعد بازار کے راستہ سے واپس جانے کے لئے تیار ہوا کہ اتنے میں نواب صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ احمدیہ محلہ میں میرے منتظر ہیں اور مجھے بُلاتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے مجھ سے کچھ بات کرنی ہے۔میں وہاں گیا تو ان کی گاڑی تیار تھی اس میں وہ بھی بیٹھ گئے اور میںبھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن بھی ہمارے ساتھ تھے۔گاڑی آپ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئی اور جس وقت اُس سڑک پر چڑھ گئی جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی گراؤنڈ