انوارالعلوم (جلد 2) — Page 185
۱۸۵ بہ حرف پوری ہوئی اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نِفاق ظاہر ہو گیا اور ایک خطرناک آگ لگنے والی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس وقت اپنے فضل سے بجھادی۔ہاں کچھ کڑیوں کے سرے جل گئے اور ان کے اندر ہی اندر یہ آگ دہکتی رہی۔اس خواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ پھونس آخر جلا ہی دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔مسئلہ خلافت کے متعلق تیسری آسمانی شہادتابھی کسی جلسہ وغیرہ کی تجویز نہ تھی ہاں خلافت کے متعلق فتنہ ہو چکا تھا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک جلسہ ہے اور اس میں حضرت خلیفہ اوّل کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور جو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے کچھ مخالف بھی ہیں۔میں آیا اور آپ کے دہنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم لوگ پہلے مارے جائیں گے تو پھرکوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا ہم آپ کے خادم ہیں۔چنانچہ یہ خواب حضرت خلیفہ اوّل کو سنائی جب جلسہ کی تجویز ہوئی اور احباب بیرون جات سے مسئلہ خلافت پر مشورہ کے لئے جمع ہوئے اور چھوٹی مسجد کے صحن میں حضرت خلیفہ اوّل کھڑے ہوئے کہ تقریر فرمائیں تو میں آپ کے بائیں طرف بیٹھا تھا آپ نے اس رؤیا کی بناء پر مجھے وہاں سے اُٹھا کر دوسری طرف بیٹھنے کا حکم دیا اور اپنی تقریر کے بعد مجھے بھی کچھ بولنے کے لئے فرمایا اور میں نے ایک مضمون جس کا مطلب اس قسم کا تھا کہ ہم تو آپ کے بالکل فرمانبردار ہیں بیان کیا۔مسئلہ خلافت پر چوتھی آسمانی شہادتجب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا تو گو مجھے وہ رؤیا بھی ہو چکی تھی جس کا ذکر میں پہلے کرچکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی موجود ہے اور وہ دوسری رؤیا بھی دیکھ چکا تھا جس میں میرمحمد اسحق صاحب کے سوالات سے منافقوں کے سر جلنے کا پتہ دیا گیا تھا لیکن پھر بھی طبیعت پر ایک بوجھ تھا اور میں چاہتا تھا کہ زیادہ وضاحت سے مجھے اس مسئلہ کی نسبت کچھ بتایا جائے اور میں نے اپنے ربّ کے حضور میں بار بار عرض کی کہ الٰہی! مجھے حق کا پتہ دیا جائے اور صداقت مجھ پر کھول دی جائے اور جو بات سچ ہو وہ مجھے بتا دی جائے کیونکہ مجھے کسی پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ صرف حضور کی رضا حاصل کرنے کا شوق ہے۔جس قدر دن جلسہ میں باقی تھے ان میں میں برابر یہ دعا کرتا رہا لیکن مجھے کچھ نہ بتایا گیا حتیّٰ کہ وہ رات آگئی جس دن صبح کو وہ جلسہ تھا جس میں یہ سوالات پیش ہونے تھے اور اُس رات میرا کرب بڑھ گیا اور میرا دل دھڑکنے لگا اور میں گھبرا گیا کہ