انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 179

۱۷۹ (چہارم ) کس طرح سچا ثابت ہوتا؟ (۱۰) اگر بعض لوگ یہ نہ کہتے کہ حضرت (اماں جان) خلافت کے لئے منصوبے باندھتی رہی ہیں اور عورتوں میں اس بات کو پھیلاتی رہی ہیں اور اُنہوں نے اپنی مرضی کے لئے خدا تعالیٰ کی رضا کو چھوڑ دیا ہے تو یہ خواب کیونکر پوری ہوتی جو آپ نے ۱۹؍مارچ ۱۹۰۷ء کو دیکھی اور فرمایا خواب میں میں نے دیکھا کہ میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ ’’میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے‘‘ اس پر میں نے اُن کو جواب میں یہ کہا۔اسی سے تو تم پر حُسن چڑھا ہے۔۲۵؎ (۱۱) ہاں اگر میری عداوت کی وجہ سے میرے ان چھوٹے بھائیوں پر حملے نہ کئے جاتے جو ابھی تک عملی میدان میں داخل ہی نہیں ہوئے اور ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو حضرت صاحب کی یہ خواب جو آپ نے ۲۱؍ اگست ۱۹۰۶ء کو سنائی تھی کس طرح پوری ہوتی فرمایا ’’شب گزشتہ کو میں نے خواب میں دیکھا کہ اس قدر زنبور ہیں(جن سے مراد کمینہ دشمن ہیں) کہ تمام سطح زمین اُن سے پُر ہے اور ٹڈی دل سے زیادہ ان کی کثرت ہے۔اس قدر ہیں کہ زمین کو قریباً ڈھانک دیا ہے اور تھوڑے ان میں سے پرواز بھی کر رہے ہیں جو نیش زنی کا ارادہ رکھتے ہیں مگر نامراد رہے اور میں اپنے لڑکوں شریف اور بشیر کو کہتا ہوں کہ قرآن کی یہ آیت پڑھو اور بدن پر پھونک لو کچھ نقصان نہیں کریں گے اور وہ آیت یہ ہے وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ‘‘(تذکرة صفحہ ۶۶۹ایڈیشن چہارم) (۱۲) اگر قادیان کے رہنے والوں پر حملے نہ کئے جاتے تو خدا تعالیٰ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ وَلَاتَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَا اَدْرٰکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ تَرٰی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ (تذکرة صفحہ ۵۲ایڈیشن چہارم) (۱۳) اس وقت قادیان کو چھوڑ کر اگر لاہور کو مدینتہ المسیح نہ بنایا جانا ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آج سے تیس سال پہلے یہ کیوں دکھایا جاتا کہ قادیان کا نام قرآنِ شریف کے نصف میں لکھا ہوا ہے اور یہ دکھایا گیا کہ دنیا میں عزت والے تین گاؤں ہیں ایک مکہ، دوسرا مدینہ اور تیسرا قادیان۔۲۸؎ جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔پھر یہ الہام کیوں ہوتا کہ ’’خدا قادیان میں نازل ہوگا‘‘۲۹؎ اگر لاہور کو قادیان کے مقابلہ میں نہ کھڑا کیا جانا ہوتا تو اس طرح خصوصیت سے قادیان کا کیوں ذکر ہوتا۔(۱۴) اگر خاندانِ نبوت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام الوصیت میں یہ *جن سے مراد کمینہ دشمن ہیں