انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 151

۱۵۱ نہیں آئی۔ہمیشہ کہا کرتے تھے اور مسلمانوں کو دعویٰ سے بلایا کرتے تھے کہ کوئی ان سے مباحثہ کرے۔اور کہتے تھے کہ نعوذ باللہ ٓانحضرت ﷺسے کوئی بھی معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ زندانی کے مضمون پر بحث کی جاوے۔مگر اب یہ معاملہ ہے کہ ہم بلاتے ہیں۔انعام دیتے ہیں۔مگر کوئی ادھر آتا ہی نہیں\"(ایضاً) پھر کتاب الھدی کے سن ۳۹(روحانی خزائن جلد۱۸، صفحہ ۲۸۳) پر ان نام نہادخلفاء کی نسبت یوں تحریر فرماتے ہیں کہ \" وفُوِّضَ إلیہم خدمۃ فما أدّوہا حق الأداء۔أتزعمون أنہم خلفاء الإسلام؟ کلا۔بل ہم أخلدوا إلی الأرض وأنّی لہم حظّ من التقوی التّام۔ولذالک ینھزمون من کل من نہض للمخالفۃ۔ویولّون الدّبر مع کثرۃ الجند والدولۃ والشوکۃ۔وما ہذا إلا أثر سُخط الذی نزل علیہم من السماء۔ترجمہ : اور جوخدمت اُن کے سپرد ہوئی تھی اس کا کوئی حق ادانہیں کیا۔کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ اسلام کے خلیفے ہیں۔ایسا نہیں بلکہ وہ زمین کی طرف جھک گئے ہیں اور پوری تقویٰ سے انہیں کہاں حصہ ملاہے۔اس لئے ہر ایک سے جو ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہو شکست کھاتے ہیں اور باوجود کثرت لشکروں اور دولت اور شوکت کے بھاگ نکلتے ہیں۔اور یہ سب اثر ہےاس لعنت کا جوآسمان سے اُن پر برستی ہے۔آگے چل کر ان کے برے حال اور بد انجام کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ ” وکیف یُعضّدون بالنصرۃ والإعانۃ۔مع ہذہ الغوایۃ والخیانۃ؟ فإن اللّٰہ لا یُبدّل سُنّتہ المستمرۃ۔ومن سُنّتہ أنہ یؤیّد الکفرۃ ولا یؤیّد الفجرۃ۔ولذالک تری ملوک النصارٰی یؤیّدون ویُنصَرون۔ویأخذون ثغورہم ویتملّکون۔ترجمہ: اورایسی خیانت اور گمراہی کے ہوتے انہیں کیونکر خدا سے مدد ملے۔اس لئے کہ خدا اپنی دائمی سنت کو تبدیل نہیں کرتا اور اس کی سنت ہے کہ کافر کو تو مدد دیتا ہے پر فاجر کو ہرگز نہیں دیتا۔یہی وجہ ہے کہ نصرانی بادشاہوں کو مدد مل رہی ہے اور اور وہ ان کی حدوں اور مملکتوں پر قابض ہورہے ہیں اور ہر ایک ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں (الھدیٰ صفحہ ۴۲ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ۲۸۶) پھر ان کے محافظ حرمین شریفین ہونے کا انکار کرتے ہوئے اس طرح ان کی تباہی کی خبر دیتے ہیں: أتخالون أنہم یحفظون حرم اللّٰہ وحرم رسولہ کالخدّام؟ کلا۔بل الحرم یحفظہم لادّعاءالإسلام وادّعاء محبۃ خیر الأنام۔وقد حقّت العقوبۃ لو لمیتوبوا إلی اللّٰہ المقتدر العلام۔ترجمہ: کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ حرمین شریفین کے خادم اور محافظ ہیں۔ایسا نہیں بلکہ حرم انہیں بچا رہا