انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 116

۱۱۶ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری اور اس تعلق کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جائے گا کیونکہ یہ تو ناممکن ہے کہ آنحضرت ﷺکی قبر کبھی کھو دی جائے اور اس میں مسیح کو دفن کیا جائے یہ تو ایسی ہتک ہے کہ مجھے کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا اور جب تک کسی سچے مسلمان کی جان میں جان ہے وہ اس امر کو کبھی پسند نہیں کرے گا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ نحضرت ﷺ کی قبر کو کھودا جائے۔پس یہ امر تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ آنحضرت ﷺ کی قبر کھود کر مسیح کو دفن کیا جائیگا بلکہ اس حدیث کا یہی مطلب ہےکہ مسیح موعود آپ کے رنگ میں ایسار نگین ہو گا کہ اسے آپ کے ساتھ ہی رکھا جائے گا اور قبر اس مقام کا بھی نام ہے جہاں مرنے کے بعد ارواح انسانی رکھی جاتی ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے ثم اماتہ فاقبرہ (عبس:۲۲) اور اگر معروف قبراس آیت میں مراد لی جائے تو کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کیونکہ کروڑوں آدمی بجائے دفن ہونے کے جلائے جاتے ہیں پس اَقبَرَہ سے یہی مراد ہے کہ اس مقام میں اسے رکھتا ہے جہاں مرنے کے بعد ارواح کو رکھا جا تا ہے اور یہی وہ قبر ہوتی ہے جو مومن و کافر کے لئے کشادہ ہو جاتی ہے یاتنگ ہو جاتی ہے۔پس احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ مسیح موعود آنحضرت ﷺ کاکامل متبع ہو کر آپ کے رنگ میں ہی رنگین ہو جائیگا اور اس وقت کے فتن کے مٹانے کے لئے کسی ایسے ہی وجود کی ضرورت ہے جو آنحضرت ﷺ کا کامل بروز ہو ورنہ یہ فتنہ کسی معمولی انسان سے نہیں مٹ سکتا۔جس عظمت کا کام ہواسی عظمت کا آدمی اس کے پورا کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے پس اس زمانہ میں ایک عظیم الشان وجود کی ضرورت ہے جو اس فتنہ کو دور کرے کیونکہ اسلام کا اس وقت صرف نام رہ گیا ہے ورنہ ایمان مفقود ہے اور قرآن کریم کے لفظ محفوظ ہیں مگر معانی کے مستور ہو جانے کا سخت خطرہ درپیش ہے اور اس وقت اسلام کی وہی حالت ہو رہی ہے جو ابتدائے اسلام میں تھی کیونکہ گو اس وقت مسلمان موجود ہیں لیکن جس طرح آنحضرت ﷺکے ابتدائے ایام میں اسلام صرف چند اشخاص تک محدود تھا اسی طرح اب حقیقت اسلام دنیاسے مفقود ہے اور صرف چند کس تک محدود ہے پس اس زمانہ کی اصلاح بالکل اس کام سے مشابہ ہے جو آنحضرت ﷺنے کیا اور سورہ جمعہ سے بھی ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺایک دفعہ پھر دنیا کی ہدایت فرمائیں گے جس کے معنی یہ ہیں کہ