انوارالعلوم (جلد 2) — Page 98
۹۸ حالت صرف ہند کی ہی نہیں بلکہ تمام ممالک کا یہی حال ہے حتّٰی کہ جو اسلامی ممالک کہلاتے ہیں ان میں بھی دین کی ایسی ہی بے قدری ہے جیسے دوسرے ممالک میں۔اسلام ایک قشرکی طرح رہ گیا ہے اور بجائے ایک قابل تعریف مذہب کے قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے اور جومذہب مرجع خلا ئق تھا اوريدخلون في دين اللہ افواجا (النصر: ۳) جس کی شان میں اللہ تعالی ٰنے فرمایا تھااب يخرجون من دين اللہ ا فواجا کا مصداق بن رہا ہے لاکھوں آدمی اس دین سے پھر گئے ہیں اور جو مسلمان کہلاتے ہیں ان میں سے بھی اکثر بظا ہرہی مسلمان نظر آتے ہیں مگر ان کے دل یا توایسے ہی اسلام سے متنفر ہو چکے ہیں جیسے ان کے جو اسلام کا نام بھی ترک کر چکے ہیں یا کم سے کم وہ اسلام سے ایسے ناواقف ہیں کہ اس کی حقیقت سے مسیحیوں اور ہنود کی طرح بے خبر ہیں۔ہزاروں ہیں جو کلمہ توحيد تک سے ناواقف ہیں اور یہ باتیں مبالغہ سے بالکل خالی ہیں اور ان میں بناوٹ کا کچھ دخل نہیں اور وہ لوگ جن کو ان امور سے دلچسپی ہے جانتے ہیں کہ واقعہ میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہو رہی ہے پس زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ان ایام میں مسلمان ہی نہیں بلکہ اسلام کا بھی تنزل ہو رہا ہے کیونکہ اسلام دلوں سے مٹ چکا ہے۔اگر صرف ظاہری حکومتیں جاتیں تو ہم کہتے کہ یہ ایام مسلمانوں کے لئے ایام الابتلاء ہیں لیکن واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ نہیں مسلمانوں کے لئے ہی نہیں خود اسلام کے لئے بھی یہ ایام ایام الابتلاء ہیں کہ اس کے نام کے سوالوگ اس سے کچھ واقفیت نہیں رکھتے۔شاید یہ کہا جائے کہ اس وقت بھی ہزاروں لاکھوں نمازی موجود ہیں مساجد میں پنج وقتہ نمازیں ہوتی ہیں جن کے دنوں میں لاکھوں آدمی حج کے لئے جاتے ہیں روزوں کے ایام میں لاکھوں مسلمان روزہ رکھتے ہیں بہت سے مالدار ہیں جو ز کو ٰۃبھی ادا کرتے ہیں پس گو بہت سے لوگ اسلام سے بے خبر ہیں لیکن ایک حصہ ایسا بھی تو ہے جو اسلام سے واقف ہے اور اسلام کے کل احکامات پر عمل کررہا ہے لیکن یاد رکھنا ہے کہ نبیوں کی بعثت کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ لوگ کسی خاص رنگ میں عبادت کرلیا کریں یا اپنے وطنوں کو ترک کر کے کسی ملک کی سیر کر لیا کریں یا سال میں کچھ دن بھوکےرہیں یا اپنے اموال کا ایک حصہ تقسیم کر دیں کیونکہ بلا وجہ انسان کو ان مشقتّوں سے مکلّف کر نالغو کام ہی نہیں بلکہ ضرررسانی میں داخل ہے پس اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے مگر نماز کے فوائد سےمحروم ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں تو اس کی نماز کی خوشی کا باعث نہیں۔اسلام کے سوا اور مذاہب کے پیرو بھی عبادت کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ان کی عبادات ان ثمرات کی مثمر نہیں