انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 97

۹۷ جو اصل غرض تھی وہ تو مفقود ہو گئی اور ادنی ٰ باتوں کی طرف لوگ متوجہ ہو گئے۔اس وقت مسلمانوں کے لیڈران قوم کی ایسی حالت ہے کہ جیسے ایک شخص مر رہا ہو اور اس کے دوست اس کے ناخن کاٹنے اور بال سنوارنے میں مشغول ہوں اور ساتھ ساتھ خوش ہوتےجائیں کہ دیکھو اب چہرہ کیا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔اگر وہ اس کے علاج کی طرف متوجہ نہ ہوں گے تو وہ مر جائے گا زینت تو زندگی کے ساتھ ہے اگر وہ زندہ ہی نہ رہا تو اس زینت سے کیا فائده- پس جب اسلام ہی ہاتھ سے جا رہا ہے اور مسلمان روز بروز دین سے بے بہرہ ہو کر طرح طرح کے گندوں میں مبتلاء ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ پرسے ایمان ان کے دلوں سے اٹھ رہا ہے اور اگر کوئی شخص مسلمان کہلاتا بھی ہے تو صرف رسمی طور پر تو دنیاوی ترقیات کی طرف متوجہ ہونا یا ان پر خوش ہونا فعل عبث ہے اصل غرض تو مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کا پیدا کرنا ہے اگر اس سے مسلمان دور ہو گئے تو ان کی ترقیات ہمارے لئے ہرگز ہرگز خوشی کا باعث نہیں، اسلام مسلمانوں کی جان ہے جب وہی نکل گئی تو ان زینتوں کو کیا کرنا ہے یہ تو زندگی کے ساتھ ہیں جب زندگی کا پانی ختم ہو گیا تو یہ سب ز ینتیں بجائے سکھ کے دکھ کا موجب ہیں مگر افسوس کہ بجائے اسلام کے قیام کے مسلمانوں کی توجہ کام دنیوی کی طرف لگ رہی ہے اور جو وجاہت حکومتوں کے زوال کی وجہ سے جا چکی ہے اسے تجارت میں ترقی اور علوم جدیدہ کے حصول سے پورا کرنا چاہتے ہیں اگر وہ اصل مقصد کی طرف بھی توجہ رکھتے اور ساتھ ہی دنیاوی مقابلہ بھی جاری رہتا تو اس میں کچھ حرج نہ تھا مگر اصل مقصد کو بالکل نظر انداز کر کے دنیاہی میں غرق ہو جانا اور اصل مرض کا ترقی کرتے جانا خطرناک علامات سے ہے۔اسلام سے بے پروائی کا جو نتیجہ اب تک نکل چکا ہے وہی انسان کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ہزاروں مسلمان ہیں جو اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اختیار کر چکے ہیں اور جن کے باپ دادا اپنی تمام عزت و عظمت اسلام پر عمل کرنے میں پاتے تھے اب ان کی اولاد اسلام میں ہزاروں عیب بتاتی ہے اور تو اور خود سادات میں سے بیسیوں خاندان مسیح ہو چکے ہیں او روہی قوم جس کی آنحضرت ﷺ کے طفیل تیرہ سو برس تک عزت ہوتی چلی آئی ہے اب اسی میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اس پاک وجود کو سٹیجوں پر کھڑے ہو کر گالیاں دیتے ہیں اور اسلام سے على الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔اگر نظرغائر سے مسلمانوں کی حالت کا مطالعہ کیا جائے تو کثرت سے ایسے مسلمان ملیں گے جو اسلام سے بے خبری نہیں اس سے متنفر ہو چکے ہیں اور یہ