انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 90

۹۰ ہیں کہ باوجود بہادری کے اعلی ٰسے اعلی ٰجوہر دکھانے کے مسلمانوں کو شکست ہی ہوئی اور بجائے دشمن کا ملک چھیننےکے کچھ اپنا ملک ہی اسے دینا پڑا۔اگر پچھلی صدی کی اسلامی جنگوں کا غور سےمطالعہ کیا جائے تو بجائے ظاہری بواعث کے زیادہ تر پوشیده بواعث ہی نکلیں گے کہ جو اسلامی حکومتوں کی نعمتوں کا باعث ہوئے بہت کثرت سے ایسے معرکے ہوئے ہیں کہ ہر طرح اسلامی لشکرکامیاب و مظفر رہا لیکن انجام کار کوئی ایسی بات پیش آگئی کہ آخری میدان دشمن کے ہاتھ رہا۔پس ان واقعات کے ہوتے ہوئے صاف اقرار کرنا پڑ تا ہے کہ ان نقصانات کی تہ میں دنیاوی اسباب کےعلاوہ کوئی پوشیدہ سبب بھی ہے اور و ہ وہی امر ہے جو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیا اس وقت اول تو کوئی ایسی اسلامی سلطنت ر ہی ہی نہیں کہ جسے حقیقی معنوں میں سلطنت کہا جا سکے اور اگر کوئی ہے تو وہ بجائے مسلمانوں کے سکھ کا باعث ہونے کے ان کے لئے دکھ کاباعث ہو رہی ہے عام طور پر حکومتیں لوگوں کے سکھ کا باعث ہوتی ہیں اور بادشاہ کے ہم مذہب اس حکومت کو اپنے مذہب کے لئے ایک پشت پناه سمجھتے ہیں لیکن اسلامی حکومتیں بجائے مسلمانوں کے آرام کا ذریعہ ہونے کے ان کے لئے دکھ کا باعث ہوگئی ہیں اور آئے دن ایسے مصائب میں مبتلاء رہتی ہیں کہ ان کے ساتھ کل دنیا کے مسلمان بھی انگاروں پر لوٹتے ہیں پس یہ حکومتیں سکھ تو کیا پہنچا سکتی ہیں ان کے ذریعہ مسلمانوں کا ہمیشہ کے لئے غم و الم سے پالا پڑگیاہے۔غرض یہ کہ ظاہری حالت مسلمانوں کی ایسی کمزور ہے کہ دنیادار انسان بے اختیار بول اٹھتا ہے کہ اب اس مذہب کا خاتمہ ہے اور یہ کہ اسلام کے لئے تھوڑے دنوں کے بعد کوئی جگہ سر چھپانے کو بھی نہ ہوگی اور ہرایک درد منددل اس کیفیت کو دیکھ کر ضرور کڑھتا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ کونسا مسلمان ہو گا جو اس حالت کو دیکھ کر غمگین نہ ہو تا ہو لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ہے جو اور بھی کمر کو توڑنے والی ہے۔ظاہری حکومتوں کا چلے جانا بھی ایک عظیم الشان مصیبت ہے کیونکہ ان دنیاوی سامانوں سےبھی دین کو ایک حد تک تقویت ہوتی ہے لیکن اگر یہ نہ ہوں اور انسان کو امن کی زندگی مل جائے تووہ بھی ترقی کے لئے بہت ممد و معاون ہوتی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض انبیاء اللہ تعالی ٰکی طرف سے ایسے بھی مبعوث ہوتے رہے ہیں کہ جن کو ساری عمر حکومت نہیں ملی اور وہ دوسری حکومت کے ماتحت ہی گزارہ کرتے رہے جیسے زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ علیھم السلام۔پس اگر حکومت ہی دین کی تقویت کا واحد ذریعہ ہوتی تو ان انبیاء کو بھی ضرور کسی نہ کسی وقت حکومت مل جاتی پس انبیاء کا