انوارالعلوم (جلد 2) — Page 62
۶۲ الٰہی فعل ہوگا اور لوگوں کو رُکنا پڑے گا۔لیکن جب تک خلافت میں کوئی روک نہیں آتی اُس وقت تک کون خلافت کو روک سکتا ہے اور اُس وقت تک کہ خلیفہ ہو سکتا ہو جب کوئی خلافت کا انکار کرے گا وہ اُسی حکم کے ماتحت آئے گا جو ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے منکرین کا ہے۔ہاں جب خلافت ہو ہی نہیں تو اس کے ذمہ دار تم نہیں۔سارق کی سزا قرآن مجید میں ہاتھ کاٹنا ہے۔اب اگر اسلامی سلطنت نہیں اور چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو یہ کوئی قصور نہیں غیر اسلامی سلطنت اس حکم کی پابندنہیں۔موجودہ انتظام میں دِقتیںاب دیکھنا ہے کہ موجودہ انتظام میں کیا دِقتیں پیش آرہی ہیں۔انجمن کے بعض ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنی ہی مجموعی رائے کو انجمن قرار دے کر کہتے ہیں کہ انجمن جانشین ہے۔دوسری طرف ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور واقعات نے اس کی تائید بھی کی کہ جماعت کے ایک کثیر حصہ کو اس کے سامنے جُھکا دیا۔اب اگر دو عملی رہے تو تفرقہ بڑھے گا ایک میان میں دو تلواریں سما نہیں سکتیں۔پس تم غور کرو اور مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہیے۔میری غرض اس مشورہ سے شاورھم پر عمل کرنا ہے ورنہ فاذا عزمت فتوکل علی اللہ میرے سامنے ہے میں تو یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہ دے تو خدا میرے ساتھ ہے۔میں پھر ایک دفعہ اِس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ اگر کوئی بات ماننی ہی نہیں تو مشورہ کا کیا فائدہ؟ یہ بہت چھوٹی سی بات ہے ایک دماغ سوچتا ہے تو اس میں محدود باتیں آتی ہیں اگر دو ہزار آدمی قرآن مجید کی آیات پر غور کر کے ایک مجلس میں معنی بیان کریں تو بعض غلط بھی ہوں گے مگر اس میں بھی تو کوئی شُبہ نہیں کہ اکثر درست بھی ہوں گے پس درست لے لئے جائیں گے اور غلط چھوڑ دیئے جائیں گے۔اِسی طرح ایسے مشوروں میں جو امور صحیح ہوں وہ لے لئے جائیں گے۔ایک آدمی اتنی تجاویز نہیں سوچ سکتا ایک وقت میں بہت سے آدمی ایک امر پر سوچیں گے تو اِنْشَاء اللّٰہ کوئی مفید راہ نکل آئے گی۔پھر مشورہ سے یہ بھی غرض ہے کہ تمہاری دماغی طاقتیں ضائع نہ ہوں بلکہ قومی کاموں میں مل کر غور کرنے اور سوچنے اور کام کرنے کی طاقت تم میں پیدا ہو۔پھر ایک اور بات ہے کہ اس قسم کے مشوروں سے آئندہ لوگ خلافت کے لئے تیار ہوتے رہتے ہیں۔اگر خلیفہ لوگوں سے مشورہ