انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 58

۵۸ سے پوچھ، مختلف مشوروں کو سن کر جس بات کا تو قصد کرے ( عَزَمْتَ کے معنی ہیں جس بات کا تو پختہ ارادہ کرے) اُس پر عمل کر اور کسی سے نہ ڈر بلکہ خدا تعالیٰ پر توکّل کر۔عجیب نکتہ شا ورھم کے لفظ پر غور کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہرحال تین یا تین سے زیادہ ہوں۔پھر وہ اس مشورہ پر غور کرے پھر حکم ہے فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕجس بات پر عزم کرے اُس کو پورا کرے اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں اس عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہؓ کے زیر کمانڈ جانے والا تھا۔مگر اُنہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے میں اسے واپس نہیں کر سکتا۔ابوقحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۲۷؎۔پھر بعض کو رکھ بھی لیا چنانچہ حضرت عمرؓ بھی اسی لشکر میں جا رہے تھے اُن کو روک لیا گیا۔میں یہ ایک مصلحت سے کہتا ہوں پھر زکوٰۃ کے متعلق کہا گیا کہ مرتد ہونے سے بچانے کے لئے ان کو معاف کر دو۔اُنہوںنے جواب دیا کہ اگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ باندھنے کی ایک رسّی بھی دیتے تھے تو وہ بھی لوں گا۔اور اگر تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مرتدین کے ساتھ جنگل کے درندے بھی مل جائیں تو میں اکیلا اُن سب کے ساتھ جنگ کروں گا۔یہ عزم کا نمونہ ہے پھر کیا ہوا؟ تم جانتے ہو خدا تعالیٰ نے فتوحات کا ایک دروازہ کھول دیا۔یاد رکھو جب خدا سے انسان ڈرتا ہے تو پھر مخلوق کا رُعب اس کے دل پر اثر نہیں کر سکتا۔شرک کا مسئلہ کیسے سمجھا دیامجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شرک کا مسئلہ خوب سمجھا دیا ہے۔ایک رؤیا کے ذریعہ اس کو حل کر دیا۔میں نے دیکھا کہ میں مقبرہ بہشتی میں گیا ہوں۔واپس آتے وقت ایک بڑا سمندر دیکھا جو پہلے نہ تھا اس میں ایک کشتی تھی اس میں بیٹھ گیا دو آدمی اور ہیں ایک جگہ پہنچ کر کشتی چکر کھانے لگی۔اس سمندر میں سے ایک سر نمودار ہوا۔اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رُقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی صحیح سلامت پار نکل جائے۔میں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔وہ آدمی