انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 607

۶۰۷ ؎۱ میں اپنے مضمون کا اکثر حصہ ختم کرچکاتھاکہ سولہ تاریخ کو مجھے وہ رسالہ ڈاک میں مل گیاگو کافی دیر کے بعد۔منہ ؎۲ اس نشان کرده عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اس جگہ اپنی فضیلت کسی اور معاملہ میں بیان نہیں فرماتے بلکہ نبی اورحکم ہونے کے لحاظ سے اپنی فضیلت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اسے ثابت کرناچاہئے کہ آنے والا مسیح نہ نبی کہلاسکتاہے نہ حکم۔جس سے معلوم ہؤا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ پہلامسیح نبی تھا۔اور حضرت مسیح موعودؑنبی نہ تھے بلکہ اسی طرح آپ کانام نبی رکھ دیا گیا تھا جیسے آدمی کو شیر کہہ دیں۔وہ جھوٹا ہے۔مرزامحموداحمد ؎۳ اس جگہ کوئی اس بات سے دھوکہ نہ کھاۓ کہ حضرت صاحب تو فرماتے ہیں کہ اس کتاب کے دو چار ورق باقی ہیں اور جس حوالہ پربحث ہے وہ آخری دوورق کے اندر ہے کیونکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں حضرت مسیح موعود نے کتاب کے شائع کرنے کے وقت صرف ایک صفحہ زائد لکھا ہے اور جبکہ حضرت مسیح موعود خود اس عقیدہ کو جو اس حوالہ میں درج ہے منسوخ قرار دے چکے ہیں۔ان کتابوں سے جو ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئیں تو صاف ثابت ہے کہ یہ حوالہ پہلے کا لکھا تھا اور حضرت مسیح موعودؑنے کتاب کو ختم کرنے کے لئے صرف ایک صفحہ اور لکھ کر شائع کرنے کی اجازت دی اور حضرت مسیح موعود کی بات کی تصدیق شہادت نمبر سے ۶۔۷ سے بھی ہوتی ہے۔؎۴ یعنی اپنی طرف سے جھوٹے الہام بناکر خدا کی طرف سے اپنے مامور ہونے کادعوی کرتا۔منه ؎۵ شرط سے مراد اس وقت ہماری اجزائے فصل ہیں شرط کا لفظ اس لئے اس جگہ استعمال کیا گیا ہے تا عوام سمجھ سکیں۔اسی طرح خصوصیت و خصوصیات سے خاصہ غیرشاملہ مراد ہوگی۔منہ ؎۶ اس تحریر سے یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور محدث کو ہم معنے خیال کرتے ہیں کیونکہ یہاں محدث کالفظ اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ ہر ایک نبی محدث بھی ہوتا ہے ورنہ محدث اور نبی ایک نہیں ہیں جیسا کہ حضرت اقدس نے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کانام نہیں رکھتاتو پھربتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے‘‘ مرزامحموداحمد۔؎۷ اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نبی کے لئے لغت کے لحاظ سے بھی اور قرآن کریم کے لحاظ سے بھی کثرت اطلاع برامور غیبیہ شرط ہے کیونکہ یہ صیغہ مبالغہ کا ہے لیکن جب لفظ نبوت بولیں تو اس کے دومعنے ہوں گے ایک تو اس لفظ کے معنے نبی کے مفہوم کو علیحدہ کر کے ہوں گے اور وہ صرف خبردینے کے ہیں اور دوسرے معنے اس کے نبوت انبیاء کے لحاظ سے ہوں گے اس وقت اس کے معنوں میں کثرت کی شرط پائی جائے گی پس ایک شخص جو ایک زبردست خبردے اس کی خبر کویارؤیا کو نبوت کہہ سکیں گے لیکن وہ نبی کا نام پانے کا مستحق نہ ہو گا جب تک اس کے الہامات میں کثرت سے غیب کی خبریں نہ ہوں اور اہم امور کی نسبت نہ ہوں مرزا محمود احمد(دیکھو حوالہ نمبر ۸جو آگے آتا ہے) ؎۸ اس بات کی تائید میں حضرت مسیح موعود عکی کتاب حقیقۃ الوحی کا یہ حوالہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے ’’مگر بعد میں جو خداتعالی ٰکی وحی بارش کی طرح میرے پرنازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیاگیا‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ نبی کا خطاب اللہ تعالی ٰہی دے تودے ورنہ آدمی کاحق نہیں کہ آپ ہی نبی بن جائے یا کسی دوسرے کو نبی کا خطاب دے دے جیساکہ بعض لوگ سید عبد القادر جیلانی ؒاور امام حسین ؓکو نبی کہتے ہیں ایسے لوگ ایک طور پر خدائی کادعوی ٰکرتے ہیں اور جو کام خدا کا ہے اسے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں تعجب ہے کہ جن لوگوں نے دعوائے نبوت کیا بھی نہیں ان کو تو نبی بنایاجاتا ہے اور جس کانام خدا اور رسول نبی رکھتے ہیں جو اپنا نام آپ نبی رکھتا ہے اس کی نبوت کی سوسو تاویلیں کی جاتی ہیں اور دوسروں کو اس کے ساتھ شامل کر کے اس کی نبوت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔العجب العجب العجب۔حضرت موعود علیہ السلام کا یہ فرمانا قابل غور ہے ’’انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہےسو میں خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں اور اگر میں اس نے انکار کردیں تو میرا گناہ ہوگا’’ اس سے بھی ظاہر ہے کہ نبی وہی ہے جس کانام خدانبی رکھے اور اس کے حکم سے وہ اپنی نبوت کا اعلان کرے نہ کہ ہر کسی و ناکس اٹھ کر جسے چاہے نبی کا خطاب دے دے خان بہادر کا خطاب تو گورنمنٹ کے سوا کوئی نہ دے سکے لیکن نبی جو چاہے کسی کو بنادے۔؎۹ اس جگہ کسی کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود حقيقة الوحی میں تحریر فرماتے ہیں " یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کرد ھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویامیں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کوملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایساد عویٰ نہیں (حقيقة الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۵۴حاشیه)اور یہ اس حوالہ کے خلاف ہے کیونکہ اس جگہ حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ بلاواسطہ نبوت پانے والاہی نبی کہلاتا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میری نبوت اس قسم نبوت سے نہیں جو پہلے انبیاء کو بلاواسطہ ملتی تھی اور قسم کے بدلنے سے نبوت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ جیسا کہ میں