انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 604

۶۰۴ مسئلہ نبوت کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل میں تتمہ حقيقۃ النبوۃ بھی لکھ چکا تھا کہ ایک دوست نے پیغام لاہور کا ایک پرچہ نمبر۸۳ جلد ۲مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۱۵ء مجھے دکھایا جس میں " مسئلہ نبوت کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل" کی سرخی کے نیچے بڑے زور کے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو اپنی بات بلادلیل منوائے۔چنانچہ لکھا ہے پس یہ فرق یاد رکھو کہ ایک نبوت کا کام ہوتا ہے اور دوسرا انعام۔کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر لوگوں کو پہنچاتا ہے اور بلا کسی دلیل کے اس حکم کو ماننے اوراس پر عمل کرنے کے لئے کرتا ہے ایسا شخص حقیقی اور مستقل ہو تا ہے لیکن جس کا حکم بغیر کسی ۵ اور دلیل کے واجب التعمیل میں وہ حقیقی معنوں میں نبی نہیں ہو سکتا۔مثلا ًاگر مرزا صاحب وفات مسیح کی بابت خدا سے علم پاکر بغیر کسی اور دلیل کے ہمیں منواتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ حقیقی اور مستقل نبی ہیں لیکن جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور باوجود خدا سے علم حاصل کرنے کے اس پرعالمانہ بحث اور جرح و قدح کی ہے اور پھر قرآن سے دلائل دے کر ہمیں منوایا ہے تو اس صورت وہ حقیقی نبی نہیں ہوسکتے۔‘‘ میں تو اس مضمون پر جس قدر غور کر تاہوں حیرت و تعجب زیادہ ہی زیادہ ہوتا جاتاہے۔اول تو حیران ہوں کہ بلا دلیل منوانے کا مطلب کیا ہے کیانبی ہر اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بات بلا دلیل ہو یا یہ کہ نبی اسی کو کہتے ہیں جو لوگوں سے بلا دلیل بات منوائے؟ اگر اس بات کودرست مان لیا جائے تو اول تو نبیوں سے زیادہ قابل رحم جماعت دنیا میں کوئی نہیں رہتی کہ وہ جوبات کہتے ہیں بلا دلیل کہتے ہیں کیونکہ دلیل کا نام آیا اور نبوت باطل ہو گئی۔دوم اس دلیل سےعیسائیوں کی خوب چڑھ بنے گی وہ آگے ہی اپنی بے سروپا باتوں کے لئے میں دلیل دیا کرتے ہیں کہ انجیل میں یونہی آیا ہے تم لوگ مان لو خدا کے نو شتوں میں ایسا لکھا ہے قبول کرو جب کہا جائے کہ آپ لوگوں پر حجت ہے نہ ہم پر۔تو کہہ دیتے ہیں۔نہیں خدا کا کلام ہے سب پر حجت ہے پس اس دلیل سے تو ان کی بات ثابت ہے۔کیونکہ نبی کے لئے شرط ہے کہ اس کی باتیں بلا دلیل ہوا کریں اور دلیل نہ دیا کرے صرف اس قدر کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا کہا ہے اسے مان لو تیرے یہ نقص آتا ہے کہ قرآن کریم کی اور آنحضرت اﷺکی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن کریم