انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 603

۶۰۳ کی پیشگوئیاں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتیں اور وہ تو اپنے الہامات کل دنیا کے لئے بتاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا کہ اس کی خبر اس نے پہلے نہ دی تھی مگر ضد اور تعصب انسان کو ایسا اندھا کر دیتا ہے کہ آج احمدیوں کے روپیہ سے ایسے رسالے شائع کئے جاتے ہیں جن میں مسیح موعود کو جھوٹا قرار دیا جا تا ہے اور وہ شخص جو کہتا ہے کہ میرے معجزات کے مقابلہ میں بعض پہلے انبیاء کے معجزات کی کوئی نسبت ہی نہیں اور یہ کہ اس کے نشانات کو اگر ہزار نبیوں پر تقسیم کیا جائے تو ان کی نبوت بھی اس سے ثابت ہو جاتی ہے۔اس کے الہامات کو نہایت حقارت سے \" چند \" کے لفظ سے یاد کیا جا تا ہے اور وہ جو اس بات کامدعی تھا کہ میرے لئے خدا تعالی ٰنے کل دنیا میں نشانات دکھائے اور دکھاتا رہے گا اس کی نسبت یہ کہا جا تا ہے کہ اس کے الہامات صرف اس کی ذات یا اس کے رشتہ داروں یا بعض اشخاص و حوادث کی نسبت تھے ، کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی ہتک ہو گی۔پر یس ایکٹ اس سے زیادہ شاید کچھ اور کہنے کی بھی اجازت نہ دینا ہو گا۔کیا اگر خدا کا خوف نہ تھا تو اس قدر بھی شرم نہ آئی کہ آخر یہ رسالہ احمدیوں کے خرچ پر چھپے گا۔انہی کے روپیہ سے انہی کے ہادی اور پیشوا کی نسبت حقارت کے الفاظ لکھ کر شائع کر ناکس شرافت کے ماتحت جائز ہو سکتا ہے۔خدا کے لئے یہ تو خیال کیا ہو یا کہ مسیح موعود گو میرے بھی والد ہیں لیکن ایک لحاظ سے تو تم لوگوں کے بھی والد ہیں۔عبدا لحکیم نے بھی تو یہی باتیں کہی تھیں جن پر اسے جماعت سے خارج کر دیا گیا تھا۔پس اللہ تعالیٰ کا خوف کرو انی مھین کے ماتحت پکڑے نہ جاؤ اور اسی دنیا میں عذاب الہٰی کا مزہ نہ چکھو۔تم بے شک کہو کہ ہم فتووں سے نہیں ڈرتے اور میرے فتووں سے بے شک نہ ڈرو لیکن خدا کے فتووں سے تو خوف کرو یہ تو نہ ہو کہ غیر احمدیوں کی طرح مسیح موعود کے الہامات کی بھی ہتک کرو یاد رکھو کہ اگر تم بعض لوگ مسیح موعود کی محبت دل سے نکال چکے ہو تو لاکھوں آدمی اس پر اپنی جان قربان کر دینے کے لئے تیار ہیں اور خود تمہارے ساتھیوں میں سے بہت ایسے ہیں جو دل سے مسیح موعود کے عاشق ہیں۔پس اس کی ہتک کر کے ہمارے دل مت دکھاؤ کہ دکھے ہوئے دل کی آواز عرش عظیم کو بھی ہلا دیتی ہے اور خدا تعالی ٰکا غضب دل دکھانے والے پر بھڑک اٹھتا ہے کیا ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایسے ہی رنگ سے خاتم النبیّن ثابت کیا جائے جس سے مسیح موعود کو جھوٹا قرار دیا جائے اور اس کے ہزاروں نشانات اور ہزاروں الہامات و کشوں کو چند کے نام سے یاد کیا جائے جن میں سے ایک بڑی تعداد تین جلدوں میں شائع بھی ہو چکی ہے اور ہزاروں الہامات ہیں جو شائع نہیں ہوئے اور پھر اس کا ہر الہام اپنے اندر ایک خارق عادت عظمت رکھتا ہے۔