انوارالعلوم (جلد 2) — Page 590
۵۹۰ تاریخ کو ایک بات کہہ کر ۲۵ کو اس کے خلاف کہیں گے۔کیا انہوں نے اس حوالہ پر غور نہ کی کہ جہاں میں نے نبوت سے انکار کیا ہے اس سے صرف فلاں قسم کی نبوت مراد ہے مگر یہ توفیق ان کوتب ملتی کہ اول تو علم قرآن نصیب ہو یا پھر تقویٰ اللہ سے کام لیتے جہاں نہ فہم قرآن حاصل ہو اور نہ تقویٰ اللہ سے کام لیا جائے وہاں احتیاط کا گزر کس طرح ہو۔جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک قسم کی نبوت جو جزوی نبوت کہلاتی ہے محد ثین میں بھی قبول کی ہے اور جب تک آپ نبی کی تعریف شریعت جدید ہ کالا نایا بلاواسطہ نبوت پانا قرار دیتے رہے۔اس وقت تک اپنے آپ کو بھی ان محد ثین سانبی قرار دیتے رہے تو کیوں اس حوالہ کو دو سرے حوالہ سے اس طرح مطابق نہیں کرتے کہ جہاں دوسرے محدثوں میں اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں اس سے محد ثیت والی جزوی نبوت کی مشابہت مراد ہے اور جہاں ان سے الگ کرتے ہیں وہاں وہ نبوت مراد ہے جو اس امت میں اور کسی شخص کو نہیں ملی۔اور اگر نہیں کرتے تو بتاؤ کہ عیسائیوں کے اعتراضوں کا تمہارے پاس کیا جواب ہے۔ہم کب کہتے ہیں کہ محدثوں میں بھی ایک قسم کی ثبوت نہیں پائی جاتی اور ہم کب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑمحدث نہ تھے۔آپ بھی اسی طرح محدث تھے۔جس طرح رسول الله ﷺ محدث تھے اور آخرت ان کی نسبت حضرت مسیح موعود نے مجدد اعظم کا لفظ استعمال کیا ہے شاید کوئی نادان اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ آنحضرت ﷺ بھی ایک مجدد تھے لیکن ذرابڑے مجدد تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے انہیں بھی مجد د کہا ہے مگر کیا کوئی دانا کہہ سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو کیوں؟ صرف اسی لئے کہ بڑے درجہ میں چھوٹاخود شامل ہو تا ہے۔پس جو نبی ہو اور ضرور ہے کہ محدث بھی ہو اور جو محدث ہوا ضرور ہے کہ وہ محسن اور صالح بھی ہو اور جو صالح ہو وہ مسلمان بھی ہو۔اگر کسی محدث کو مسلمان کہہ دیں یا مسلمانوں میں اس کو شامل کر دیں تو ضروری نہیں کہ اس کا آخری رتبہ یہی ہو۔یوں تو رسول الله ﷺ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ وانا اول المومنين تو اب کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ بس آپ ایک مومن تھے اس سے اوپر آپ کی کو ئی حیثیت نہیں۔ایسا خیال رکھنے والا جاہل ہو گا۔کیونکہ وہ دوسری جگہ دیکھے کہ آپؐ کو نبی کہا گیا ہے پس آپؐ کوگو مومنوں میں شامل کیاگیا ہے لیکن نبی کے لفظ نے بتا دیا ہے کہ آپ کو دوسرے مومنوں سے ایک خصوصیت ہے ، اور وہ یہ کہ آپ نبی بھی ہیں اسی طرح کوئی شخص نبی کالفظ دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ ویسے ہی نبی ہیں جیسے دوسرے اور صرف عرب کی طرف آئے ہیں نہ کہ سب جہاں کی طرف کیونکہ وہ اگر اپنی نظر وسیع کرے گاتو