انوارالعلوم (جلد 2) — Page 589
۵۸۹ ہیں کہ:۔ہیں کہ " غرض اس حصہ کثیر وحی الہٰی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیراس نعمت کا نہیں دیا گیا اس وجہ سے نبی کانام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“(حقیقت الوحی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحہ۔۴۰۷ ۴۰۶) پھر یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر پہلے لوگ اس خطاب کو پاتے تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جا تا جیسا کہ پہلے کسی موقعہ پر لکھا جا چکا ہے تو اب باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں کہ:۔(۱) " پہلے بزرگ نبی کا نام پانے کے مستحق نہیں (۲) کثرت اطلاع بر امور غیبیہ کی اس میں شرط ہے جو ان میں نہیں پائی جاتی (۳) اس نام سے آپ ہی مخصوص ہیں (۴) اگر پہلوں کو بھی نبی بنا دیا جا تاتو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا‘‘ اور آپ کے سوا اس امت میں سے کسی اور شخص کو نبی کس طرح کہا جا سکتا ہے۔بتاؤ کہ ایسے محکم حوالہ کے ہوتے ہوئے جس میں آپ پہلوں کے نبی ہونے کی نفی کرتے ہیں اس کی وجہ بھی بتاتے ہیں اس نام کے پانے کا مستحق صرف اپنے آپ کو بتاتے ہیں اور پہلے بزرگوں کے نبی قرار دینے سے ختم نبوت میں نقص پیدا ہو جانے کا احتمال بتاتے ہیں کسی شخص کا ایک ایسے حوالہ سے جس سے یہ ثابت ہو کہ آپ پہلے مجددین سے اپنے آپ کو مشابہ قرار دیتے ہیں اور ان کی نبوت کی نسبت بھی اقرار کرتے ہیں اگر سند پکڑ نا عیسائیوں والی چال نہیں تو اور کیا ہے یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص نبی کا رتبہ پانے کے لئے مخصوص ہو۔اس کے بغیر کوئی شخص اس نام کا مستحق نہ ہو جن شرائط کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی بنتا ہو وہ دوسروں میں پائی بھی نہ جاتی ہوں اگر وہ نبی بن جائیں تو امر ختم نبوت مشتبہ بھی ہو جائے۔اور پھر بھی پہلے اولیاء نبی ہو جائیں۔خدارا ایسے لوگ بات کرنے سے پہلے یہ تو سوچ لیا کریں کہ ہم کسی جہالت اور نادانی کی طرف لوگوں کو لے جارہے ہیں کیا ان کو اس قدر توفیق نہ ملی کہ وہ حضرت مسیح موعوردؑکے کسی اور حوالہ کو تلاش کر کے ان دونوں حوالوں کی تطبیق کرتے کیا انہوں نے یہ کوشش نہ کی کہ قرآن کریم پر غور کر کے اس قسم کی مثالیں تلاش کرتے اور پھر دیکھتے کہ ان کی تطبیق کس طرح کی جاتی ہے وہ اس قدر تو سوچتے کہ جس طرح حضرت مسیح موعودؑنے حقیقۃ الوحی میں نبوت کے متعلق خیالات کے ایک تغیر کو قبول کیا ہے۔کیا اس کے بعد بھی کسی جگہ پر ایسی تحریر شائع کی ہے۔کیا پھر یہ ممکن ہے ۲۳