انوارالعلوم (جلد 2) — Page 584
۵۸۴ تتمہ حقيقۃ النبوة نبوت مسیح موعود کے متعلق بعض اعتراضوں کا جواب میں اپنی طرف سے کتاب حقیقۃ النبوۃ کو ختم کر چکا تھا کہ چند اعتراضات حضرت مسیح موعود کی نبوت پرمیرے سامنے اور پیش کئے گئے جو منکرینِ نبوت مسیح موعودؑ کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور گو میں نبوت کے متعلق ایسی طرز پر اصولی بحث کر چکا ہوں کہ ہر ایک صاحب فہم وذ کا اسے پڑھ کر ہر ایک اعتراض کا خود ہی جواب دے سکتا ہے لیکن چونکہ میرا ارادہ ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق جس قدر مختلف حوالہ جات مل سکیں سب کا جواب دے دیا جائے اس لئے میں تتمہ کے طور پر مختصراً اعتراضات کا جواب دے دیتا ہوں تاکہ بعض لوگ ناواقفوں کو دھوکا نہ دے سکیں۔کہاجا تا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑنے اپنی وفات سے چند گھنٹے پہلے اپنی نبوت کاصاف الفاظ میں انکار کر دیا تھا۔پس وہ آخری گفتگو ہے جس سے اس جھگڑے کا قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے۔میں اس اعتراض کے جواب دینے سے پہلے حضرت مسیح موعودؑ کی وہ ڈائری بدر سے نقل کر دیتا ہوں تا کہ اس کے اصل مضمون سے لوگوں کو آگاہی ہو جائے اور وہ یہ ہے: سلسلہ نبوتلاہور ۲۵مئی ۱۹۰۸ء ظہر۔ایک شخص سرحدی آیا بہت شوخی سے کلام کرنے لگا۔اس پر فرمایا: "میں نے اپنی طرف سے کوئی اپنا کلمہ نہیں بنایا۔نہ نماز علیحدہ بنائی ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کو دین و ایمان سمجھتا ہوں۔یہ نبوت کا لفظ جو اختیار کیا گیا ہے صرف خدا کی طرف سے ہے جس شخص پر پیشگوئی کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا اظہار بکثرت ہو اسے نبی کہا جاتا ہے خدا کا وجود خداکے نشانوں کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔اسی لئے اولیاء اللہ بھیجے جاتے ہیں۔مثنوی میں لکھا ہے آں نبی وقت باشد اے مرید - محی الدین ابن عربی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔حضرت مجدد