انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 574

۵۷۴ آنحضرت اﷺکے بعد ان معنوں کے روسے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہٰیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجاب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت لا يظهر على غيبه کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسی طرح جو خداتعالی ٰکی طرف سے بھیجا جائے گا اس کو ہم رسول کہیں گے۔فرق در میان یہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد قیامت تک ایسانبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجنابؐ اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمدؐ اور احمدؐ رکھا جائے۔یو نہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے ومن ادعی فقد کفر اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبّین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پرده مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا۔تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبیّن پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم البنّين میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاداور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدیؐ چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ؐہے گو ظلّی طور پر۔پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلیّ طور پر محمدؐ اور احمد ؐرکھا گیا۔پھر بھی سید نامحمدؐ خاتم النبّین نہیں رہا۔کیونکہ یہ محمدؐ ثانی اسی محمد ﷺکی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسیٰ بغیر مہرتوڑنے کے آ نہیں سکتا کیونکہ اس کی نبوت ایک الگ نبوت ہے اور اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا۔تو پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ اهدنا الصراط المستقیم صراط الذين أنعمت عليهم سو یاد رکھنا چاہئے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔اگر خدا تعالی ٰسے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس طرح سے اس کو پکارا جائے اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنے اظہار امرغیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اس لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خودخداتعالی ٰنے یہ نام میرے رکھے