انوارالعلوم (جلد 2) — Page 568
۵۶۸ کر اسے ہٹایا۔لیکن وہ پھر آکر بیٹھ گئی۔اس نے پھر ہٹایا تو وہ پھر بیٹھ گئی پھر ہٹایا توہ پر بیٹھ گئی۔اس پر اے مکھی پر سخت طیش آیا اور ایک بڑا پتھر اٹھا کر اس مکھی پر دے مارا کہ یہ کمبخت میرے آقا کو سونے نہیں دیتی لیکن اس کا کیا نتیجہ ہوا۔اس کا آقا مکھی کے ساتھ ہی اس جہان سے رخصت ہو گیا۔آہ !مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کرنے والا یہ نہیں خیال کرتا کہ وہ بھی اس نوکر کی طرح ایک مکھی کے اڑانے کے لئے جو درحقیقت اس کے اپنے وہم کا نتیجہ ہے (ور نہ اس کی حقیقت کوئی نہیں) اپنے آقا کا سر کچلنے پر تیار ہو گیا ہے۔اسلام کو تباہ کر رہا ہے جو شخص ایک شاخ کے بچانے کے لئے جڑھ کاٹتا ہے وہ یاد رکھے کہ نہ جڑھ رہے گی نہ شاخ - اسلام میں نبوت کا مسئلہ ہی تو ایک زبردست مسئلہ ہے جو اسے پچھلے ادیان پر فضیلت دیتا ہے آنحضرت اﷺکے فیض سے نبوت کامل جاناہی تو ایک کمال ہے جو آپ کو دوسرے انبیاء سے افضل ثابت کرتا ہے ورنہ محدث تو پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی ہوتے تھے پس اگر آنحضرت ﷺ کی امت میں بھی محدث ہی آسکتے ہیں تو آپ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت ہوئی ؟ہمارا نبی ؐخاتم النبین ہے وہ کل کمالات کا جمع کرنے والا ہے کل خوبیاں اس پر ختم ہو گئیں وہ خاتم النبّین ہی نہیں وہ خاتم المومنین بھی ہے دنیا کے پردہ پر کسی جگہ کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس سے فیض نہ پائے لیکن اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ خاتم النبیّن ہے لیکن نہ صرف نبی ہے بلکہ نبی گر ہے دنیا میں بہت سے نبی گزرے ہیں مگر ان کے شاگرد محد ثیت کے درجہ سے آگے نہیں بڑھے سوائے ہمارے نبی ﷺکے کہ اس کے فیضان نے اس قدر وسعت اختیار کی کہ اس کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ بھی پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلّی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔چنانچہ خدائے تعالی ٰنے مسیح ناصری جیسے اولوالعزم نبی پر اسے فضیلت دی اور یہ سب کچھ صرف آنحضرت ﷺکے فیضان سے ہوانہ اس کے اپنے زور سے۔پس اے آنحضرت ﷺ کی محبت کا دم بھرنے والو! مسیح موعود ؑکی نبوت کا انکار کرنا در حقیقت آنحضرت ﷺکی قوت فیضان کا انکار کرنا ہے اور مسیح موعود ؑکے نبی ہونے سے آنحضرت ﷺ کی شان میں نقص نہیں آتا۔اور نہ آپ اﷺکی اس میں ہتک ہے بلکہ یہ سراسر عزت ہے اور وہ عزت ہے جس میں کوئی اور رسول آپ کے ساتھ شامل نہیں جہاں غیر وارث ہو وہاں غیرت ہوتی ہے، لیکن جہاں اپنا شاگرد اور روحانی فرزند وارث ہو وہاں غیرت کا کیا تعلق شاگر د کا بڑهناتو استاد کی قابلیت پر دلیل ہوتا ہے نہ کہ اس سے استاد کی قابلیت پر کوئی حرف آتا ہے پس مسیح