انوارالعلوم (جلد 2) — Page 546
۵۴۶ کی شرط ہے پس جبکہ مسیح موعود نے نبی و رسول میں فرق نہیں کیا۔تو کسی احمدی کاحق نہیں کہ فرق کرے۔اور اگر کرے بھی تو پھر بھی اسے کچھ فائدہ نہیں۔کیونکہ جن لوگوں نے ان دونوں ناموں میں فرق کیا بھی ہے وہ رسالت کے درجہ کو نبوت کے درجہ سے بلند قرار دیتے ہیں۔او رکہتے ہیں کہ ہر نبی رسول نہیں۔لیکن ہر رسول نبی بھی ہے۔پس اگر رسالت سے رسالت ہی مراد لو تب بھی رسالت کے ثابت ہوتے ہی نبوت خود ثابت ہو جائے گی۔اس سوال کا جواب کہ کیا مسیح موعود ؑکے سوا کوئی اور نبی بھی اس امت میں گزرا ہے یا نہیں؟ ایک یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ اس امت میں مسیح موعود کے سوا کوئی اور نبی میں گزرا ہے یا نہیں تو اس کا جواب مختصر تو یہ ہے کہ نہیں۔اور سب سے پہلے اس بات کے لئے بطور دلیل خود آنحضرت ﷺ کی احادیث کو پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ آنحضرت اﷺنے صرف ایک شخص کا نام نبی رکھا ہے۔اور ہماراحق نہیں کہ آپ ؐکے حکم کے سوا اور کسی کا نام نبی رکھ دیں پھر یہی نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے صرف مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے بلکہ یہ بھی فرما دیا ہے کہ لیس بينی وبينه نبی یعنی اس کے اور میرے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔پس خاتم الانبیاء کی گواہی کے باوجو و ہم کسی کونبی کس طرح کہہ سکتے ہیں۔نبی تو وہ شخص ہو سکتا ہے جس کی صداقت پر آنحضرت ﷺ کی مہرہو۔اور آپ سے پہلے اس امت کے کسی اور آدمی کی نبوت پر مہر صداقت لگانے سے انکار فرماتے ہیں۔پس ہم بھی اس بات پر مجبور ہیں کہ مسیح موعود سے پہلے اس امت میں کسی اور امتی نبی کے وجود سے انکار کر دیں۔دو سری شہادت اس بات کی تائید میں کہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کوئی اور ولی بزرگ یا محدث نبی نہیں ہوا۔گو بوجہ محد ثیت جزوی نبوت ان لوگوں میں پائی جاتی ہو۔خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریر یں ہیں۔اور مسیح موعوروہ شخص ہے جس کو رسول الله ﷺحکم و عدل بیان فرماتے ہیں۔پس اس کا فیصلہ رد کرنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔آپ فرماتے ہیں:۔’’غرض اس حصہ کثیروحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد