انوارالعلوم (جلد 2) — Page 545
۵۴۵ رسول کی خبردی گئی تھی۔(۲۰) کہاجاتا ہے کہ رسول اللہ اﷺچو نکہ خاتم النبّین ہیں۔اس لئے خواہ کسی کو الہامات میں کتنی دفعہ ہی نبی کے نام سے پکارا جائے تب بھی وہ ہی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ نبوت کا سلسلہ تو بند ہو گیا۔اب اگر نام رکھ دیا جائے تو رکھ دیا جائے اورمحدث بوجہ الہام پانے کے جزوی نبی کہلائے تو کہلائے۔مگرنی فی الواقع نہیں ہو سکتا۔لیکن حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔’’میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت ﷺ نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے۔اور وہ خاتم الانبیاء ہیں، اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو گا۔اور میرے عہد پر ہو گا۔‘‘ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۷۰،۷۱ روحانی خزائن جلد۱۶ صفحہ ۶۹۔۷۰) اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود خاتم الاولیاء ہونے کاوعویٰ فرماتے ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک خاتم کے وہی معنی ہیں جن کے ذریعہ سے آئندہ نبیوں کا سلسلہ روکا جاتا ہے۔تو خاتم الاولیاء کے یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ اب دنیا میں کوئی ولی نہیں ہو سکتا۔بلکہ کبھی اگر خداتعالی ٰکسی کا نام ولی رکھ دیا گیا ہے۔۔تو اس سے یہ مطلب نہ ہو گا کہ وہ ولی ہو گیا ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہو گا کہ اس کا نام ولی رکھ دیا گیا ہے۔ورنہ وہ ولی نہیں۔لیکن اگر یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے بعد کوئی شخص ولی نہیں بن سکتا جب تک آپ کی فرمانبرداری کا جؤ ااپنی گردن پر نہ رکھے۔تو خاتم النبین کے معنے بھی یہی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔جب تک آنحضرت ﷺکی غلامی نہ اختیار کرے۔ورنہ نبوت کا دروازہ مسدود نہیں۔اور جبکہ بابِ نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود بھی ضرور نبی ہے۔گو نبوت کے دلائل تو بہت سے ہیں۔لیکن اس جگہ اسی قدر پر کفایت کی جاتی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ اگر سب دلائل جمع کئے جائیں تو ایک سو سے زائد دلائل مسیح موعود کی نبوت پر مل سکتے ہیں جنہیں کسی اور موقعہ پر پیش بھی کیا جاسکتا ہے مگر فی الحال اسی قدر کافی ہیں۔اور حق پسند انسان کی ہدایت کے لئے اس سے زیادہ کی حاجت نہیں۔دلائل نبوت میں میں نے نبی اور رسول دونوں کے حوالے نقل کئے ہیں لیکن ممکن ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ لا يظهر على غيبه والی آیت اور بعض اور دلائل میں رسول کالفظ ہے نہ نبی کا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خود اس آیت کا مطلب یہ نکالا ہے کہ یہ نبوت