انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 539

۵۳۹ ہونے کے بغیر آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اور اسے ایک محدث قرار دیتے ہیں جس نے نبی کا نام پا لیا ہے محمدی سلسلہ کی کسر شان ہے اور الله تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے اور مسیح موعود کو محدث ثابت کرنے کے لئے آنحضرت ﷺکی کسرِشان کر تاہے۔اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ براہ راست نبوت پانے سے نبی کا درجہ بلند نہیں ہو جاتا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ محمدیؐ سلسلہ کی عظمت اس طرح قائم ہو جاتی ہے کہ اس کے آخر میں بھی ایک نبی ہو پس اگر براہ راست نبوت پانے والاہی نبی ہو تا ہے یا بڑادرجہ رکھتا ہے۔تو ایک امتی نبی کے بھیج دینے سے وہ نقص دور نہ ہو سکتا تھا جس کے دور کرنے کے لئے وہ بھیجا گیا اور چونکہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک ایک امتی نبی کے آنے سے کسرشان کا خطرہ جاتا رہا۔اس سے معلوم ہواکہ امتی نبی ہو تادر جہ کو کم نہیں کردیتا۔شاید کوئی شخص اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اگر آخری خلیفہ کے نبی نہ ہونے سےمحمدی سلسلہ کی کسر شان ہوتی تھی تو کیوں درمیانی خلفاء کے نبی نہ ہونے سے محمدی سلسلہ کی ہتک نہیں ہوتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض مسیح موعود پر ہے نہ مجھ پر آپ ایسا فرماتے ہیں۔میں نے یہ بات اپنی طرف سے تو نہیں بتائی۔لیکن اعتراض کو قبول کر کے میں اس کا جواب دیتا ہوں کہ جب کسی شئے کا اول اور آخر مل جائے تو وہ برابر ہو جاتی ہے اور درمیانی حصہ کا مقابلہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔دوم یہ کہ موسوی سلسلہ کے نبی حضرت موسی ٰکے فیضان سے نبی نہ بنےتھے لیکن محمدیؐ سلسلہ کا خلیفہ آنحضرتﷺ کے فیضان سے نبی بنا ہے۔اور یہ ایک ایسی عظمت ہے جس کا مقابلہ حضرت موسیٰ نہیں کر سکتے ہیں۔اس ایک نظیر نے محمدی سلسلہ کو موسوی سلسلہ پر وہ فضیلت دے دی کہ اب اس پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔کیونکہ آنحضرت اﷺکا درجہ استادی ثابت ہو گیا۔اور موسوی سلسلہ پر محمدی سلسلہ کی فضیلت ثابت ہو گئی اور اسی کا ثابت کرنامد نظر تھا۔(۱۶) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وما كنا معذبين حتی نبعث رسولا(بنی اسرائیل :1۶) ہم اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۚ-وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ (القصص:۶۰) یعنی تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ اس علاقہ کے اس مقام میں جو اس کا مرکز ہونے کی اہلیت رکھتا ہے کوئی رسول مبعوث نہ کردے۔جو ان لوگوں پر ہماری آیات پڑھ کر سنائے۔اور نہ ہم ہلاک -