انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 536

۴۳۶ کا حکم دے دیتا ہے اور کسی کو وزیر بنادیتا ہے اور کسی کو کمانڈر مقرر کر دیتا ہے اور کسی کو امیرالامراء بنادیتا ہے مگر یہ سب نام ہی نام ہوتے ہیں اس کے اندر حقیقت کوئی نہیں ہوتی۔اور ان کی اس کارروائی سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس معنوی بادشاہ میں بڑی طاقت ہے کہ جو چاہتا ہے کرتاہے بلکہ اس کی حقیقت ایک کھیل سے زیادہ نہیں ہوتی۔پس آنحضرت ﷺ کی قوت افاضہ اس بات سے ثابت نہیں ہو جاتی کہ آپ کی امت میں سے ایک شخص کا نام نبی رکھ دیا جائے کیونکہ اس کا افاضہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں نام تو خداتعالی ٰنے رکھا ہے آنحضرت ﷺکے افاضہ کا اس سے کا ثبوت ملا؟ آپ کے افاضہ کا ثبوت تب ملے کہ آپ کی اتباع میں واقعی کوئی شخص نبی بن جائے اور آپؐ کی شاگردی اس کے قلب کے اند رایسی طہارت اور صفائی پیدا کردے کہ اس کا دل مصفّٰی آئینہ کی طرح ہو جائے ورنہ نام رکھنے سے کچھ نہیں بنتا۔ایک مصور کا کمال اس طرح ثابت ہوتاہے کہ اس کی تصویر واقعہ میں اعلیٰ درجہ کی ہو یا اس طرح کہ اس کی کسی تصویر کی لوگ تعریف شروع کر دیں ؟ اگر وہ واقع میں اعلیٰ تصویر نہیں تو اس کے ہنر کا کوئی ثبوت نہیں اسی طرح آنحضرت ﷺکے کسی شاگرد کا نام نبی رکھنے سے آپ ؐکے افاضہ کا کمال ہرگز ثابت نہیں ہوتا، آپ ؐکے افاضہ کا کمال اسی طرح ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی شاگردی میں واقع میں کوئی شخص نبیوں کے کمالات حاصل کرے۔اگر واقع میں کوئی شخص نبیوں کے مقام تک آپ ﷺ کی اتباع سے نہیں پہنچ سکتا تو صرف کسی کا نام بھی رکھ دینے سے آپؐ کے افاضہ کا کمال ثابت نہیں ہو سکتا۔غرض کہ حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ ﷺ کے افاضہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مقام نبوت پر پہنچایاثا بت کرتا ہے کہ آپؐ کو واقع میں نبی بنا دیا گیا۔ورنہ کسی اور معنے کے روسے آنحضرت اﷺکے افاضہ کا کمال ثابت نہیں ہوتا۔چودھویں دلیل حضرت مسیح موعود حقيقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:۔’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہےاور خدائے بزرگ مقر بین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جز ئی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلوسے نبی اور ایک پہلوسے امتی (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳-۱۵۴) اس عبارت سے یہ نتائج نکلتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ کسی زمانہ میں مسیح سے اپنے آپ کو افضل