انوارالعلوم (جلد 2) — Page 502
۵۰۲ نبوت پر کچھ دلائل بیان کروں جن سے ہر طالب حق نبوت مسیح موعود پر یقین حاصل کر سکے۔لیکن میں ایک دفعہ پھر یہ بات ظاہر کردینا چاہتا ہوں کہ میرا اور تمام ان احمدیوں کا جو حضرت مسیح موعودؑکے ساتھ صحیح تعلق رکھتے ہیں۔اور خود حضرت مسیح موعود کا بھی ہرگز ہرگز یہ مذہب نہیں کہ آنحضرت ﷺکے بعد کوئی اور نبی آسکتا ہے جو قرآن کریم کو منسوخ کرے، یا اس کے بعض احکام پر خط نسخ کھینچ دے۔یا یہ کہ آنحضرت ﷺکی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر ہو کر کچھ حاصل کر سکے بلکہ ہم ایسے شخص کو جو بعد آنحضرتﷺ کے بلاواسطہ فیض پانے کا دعویٰ کرتا ہے۔یا بعد قرآن کریم کے نئی شریعت لانے کا مدعی ہے۔لعنتی اور کذاب خیال کرتے ہیں۔کیونکہ ہمارے نزدیک آنحضرت اﷺکے بعد کوئی اور نبی نہیں سوائے اس کے کہ آپ کے فیض سے فیض باب ہو۔اور بعد قرآن کریم کے کوئی اور شریعت نہیں۔نہ پورے طور پر اسے منسوخ کرنے والی۔اور نہ اس کے کسی حصہ کو منسوخ کرنے والی قرآن کریم کا ایک نقطہ اور شعشہ بھی کوئی شخص بدل نہیں سکتا اور نہ اس کی زیی زبر میں تغیر کر سکتا ہے چہ جائیکہ کہ اس کے بعض احکام کو بدل دے مارایہ ایمان ہے کہ آنحضرت اﷺسے بڑھ کر کوئی صاحب کمال نہیں گزرا۔پس کمال کے بعد کسی اور شئے کی حاجت نہیں رہتی۔اب جو آئے گا۔آپ کے کمالات کے اظہار اور اس کے اثبات کے لئے آئے گا۔نہ کہ آپ سے الگ ہو کر اپنی حکومت جمانے۔جس شخص نے آپ کے نور کو نہ دیکھاوه اندھا ہے۔اور جس شخص نے آپ ؐکے درجہ کو نہ پہچانا وہ بد بخت ہے۔اور اس کا انجام خراب ہے۔بد قسمت ہے وہ انسان جس نے آپ ؐکے دامن کو نہ پکڑا اور بد نصیب ہے وہ انسان جس نے آپؐ کی غلامی کا جوڑا اپنی گردن پر نہ رکھا۔اللہ تعالی کے قرب کا ایک ذریعہ ہے۔اور وہ یہ کہ انسان آنحضرت اس کی اطاعت میں کمال پیداکرے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قل إن كنتم تحبون اللهفاتبعونی يحببكم الله (ال عمران :۳۲) یعنی اے ہمارے رسول ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالی ٰسے محبت رکھتے ہو تو تم میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔پس اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کا ایک اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان آنحضرت ﷺ کی غلامی اختیار کرے۔جس قدر کوئی شخص آپؐ کی اطاعت کرے گا۔اسی قدر اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے بڑھے گی۔پس جب ہم کسی شخص کو آپؐ کی امت میں سے نبی کہتے ہیں تو اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ وہ شخص آپ کے غلاموں میں سے سب سے زیادہ فرمانبردار غلام ہے۔اس کا نبی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع میں کمال کو پہنچ گیا :