انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 485

۴۸۵ ہوں کہ’’ اگر حقیقی کے مقابلے میں نقلی یا بناوٹی یا ا سمی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتاہوں مگر مرزا صاحب باوجود نقلی بناوٹی یا اسمی نبی نہ ہونے کے کہتے ہیں کہ خدا نے میرا نام حقیقی رنگ میں نبی نہیں رکھا بلکہ صرف مجازی طور پر۔میں کس طرح سمجھ لوں کہ میاں صاحب کو آج تک یہ بھی علم نہیں کہ حضرت مسیح موعودنے حقیقی کن معنوں میں استعمال کیا ہے۔جب ایک مرتبہ نہیں کئی بار حضرت کی تحریروں میں حقیقی کے بالمقابل اپنی نبوت کو مجازی کہا ہے کیا حقیقت اور مجاز کافرق میاں صاحب کو معلوم نہیں ؟ پھر کیوں انہوں نے جان بوجھ کر حقیقی کے خلاف بناوٹی اور نقلی رکھا ہے محض اس لئے کہ حقیقت پر پردہ پڑارہے۔حضرت صاحب تو حقیقی کے مقام پر مجازی رکھیں اور میں حقیقی کے مقابل نقلی اور بناوٹی رکھ کر آپ کی تحریر کا استخفاف کرتے ہیں“۔مجھے افسوس ہے کہ جناب مولوی صاحب کو میرے حقیقی کے مقابلے پر اگر کے ساتھ مشروط کرکے نقلی رکھنے پر اس قدر طیش آگیا۔اور میرے یہ الفاظ آپ کی تکلیف کا باعث ہوئے مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ اس طیش کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی کے معنی یہ کئے جائیں کہ نئی شریعت لانے والانبی (جو معنی خود مسیح موعود نے کئے ہیں) تو میں بھی حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔لیکن اگر حقیقی کے مقابلہ میں بناوٹی یا اسمی رکھاجائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ میں نے اگر کے ساتھ مشروط کر کے بتایا تھا کہ اگر فلاں معنی کئے جائیں۔تب میں آپ کو بناوٹی نہ قرار دوں گا بلکہ حقیقی لیکن جناب مولوی صاحب کو نہ معلوم اس پر کیوں طیش آگیا۔حالانکہ قرآن کریم میں وہ لکھا دیکھتے ہیں کہ ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین (الزخرف:۸۲) اگر رحمٰن کا بیٹا ہو تو میں اس کی سب سے پہلے پرستش کرنے کو تیار ہوں (مگر چونکہ ہے ہی نہیں میں پرستش نہیں کرتا )اسی طرح وہ میرے فقرہ کو سمجھ لیتے کہ حضرت مسیح موعود کے معنوں کے خلاف اگر کوئی شخص حقیقی کے یہ معنی کرے کہ نقلی یا بناوٹی نہ ہو تو میں مسیح موعود کو حقیقی نبی ہی سمجھوں گا۔اور اگر مولوی صاحب کو بھی میں اس فقرہ کا مطلب یہی ہے کہ میں نے آپ کو حقیقی کہاتوغالبا ًاس آیت سے کہ ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین یعنی اگر رحمٰن کا بیٹا ہو تو میں اس کی سب سے پہلے پرستش کرنے کے لئے تیار ہوں وه یہی مطلب لیتے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالی کا بیٹا مانتے تھے۔اگر وہ کہیں کہ جبکہ ہم سارے قرآن کریم میں یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہیں تو اس آیت سے جس کے پہلے اگر لگا ہؤا ہے کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آپ خدا کا بیٹاانتے تھے تو وہ بتائیں کہ جب القول الفصل میں کئی جگہ میں نے لکھا ہے کہ