انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 449

۴۴۹ اظہار (۳) اور خدا تعالی ٰکا نبی نام رکھنا لیکن اسلامی اصطلاح کو اس تعریف کے خلاف سمجھ کر (کیونکہ عام مسلمانوں کا یہی عقیدہ تھا اور انبیاء انکشاف تام تک عام عقیدہ پر قائم رہتے ہیں) آپ باوجود سب شرائط نبوت کے موجود ہونے کے اور ان کے پائے جانے کا إقرار کرنے کے اپنے آپ کو نبی نہ سمجھتے تھے۔مگر بار بار کے الہامات نے آخر آپ کی توجہ کو نبی کے حقیقی مفہوم کی طرف پھیرا اور آپ کے دل پر پورے طور پر امر واقع کا انکشاف ہوا اور قرآن کریم کو بھی آپ نے عام لوگوں کے عقیدہ کے خلاف پایا۔تو اس پہلے عقیدہ کو ترک کر دیا چنانچہ اس کا ثبوت وہ تحریرات ہیں جو آپ نے نبی کی تعریف میں ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد لکھی ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔ا- خدا کی اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں۔’’خدا کی یہ اصطلاح ہے کہ جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے این ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں\" (چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۵ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱) ۲- انبیاء کے نزدیک نبی کی تعریف جبکہ وہ مکالمه مخاطبہ اپنی کیفیت و کمیت کے رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے\"۔(الوصیت صفحہ ۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱) ۳- اسلام کی اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں۔’’ایسے شخض میں ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور رسول اور محدث کہتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں"۔