انوارالعلوم (جلد 2) — Page 425
۴۲۵ فيمن كان قبلكم من بني إسرائيل رجال یكلمون من غير أن يكونوا أنبياء فان يكن من أمتى منهم احد فعمر (بخاری کتاب فضائل الصحابہ باب مناقب عمر بن الطلاب )از مجموعه اشتہارات فروری ۱۸۹۲ء) ’’اور خدا تعالی ٰجانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں“( آسمانی فیصلہ صفحہ ۳ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ ۳۱۳) \" منصفو! سوچ کر جواب دو کہ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت کوئی حقیقی طور پر صلیبوں کو توڑنے والا۔اور ذمیوں کو قتل کرنے والا اور قتل ِخنزیر کا نیا کام لانے والا اور قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرنے والا ظہور کرے گا اور آیت اليوم أكملت لكم دينكم اور آیت حتی یعطوا الجزية عن يد (التوبہ:۲۹) اس وقت منسوخ ہو جائے گی۔اورنئی وحی قرآنی وحی پر خط نسخ کھینچ دے گی اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمنِ قرآن نہ بنو۔اور خاتم النبین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کے جاؤ گے ۸»‘‘ (آسمانی فیصلہ صفحہ ۲۵ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۳۵) ’’دوم یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسرفاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں۔معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کامدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا\" آسمانی فیصلہ صفحہ ۳۷ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ ۳۴۷) ’’نہ مجھے دعوی ٰنبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور نہ لیلة القدر سے انکاری ہوں۔اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبّین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی کریم اﷺخاتم الانبیاء ہیں۔اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گانیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شعشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہو گا ہاں محدّث آئیں گے جو اللہ جلّشانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلّی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں۔“ (نشان آسمانی صفحہ ۳۰۔۳۱ اور روحانی خزائن جلد۴ صفحہ ۳۹۰۔۳۹۱)