انوارالعلوم (جلد 2) — Page 397
۳۹ ، اپنی فضیلت کا علم نہ ہو سکا۔تیسرے سوال کا جواب بھی دوسرے سوال کے جواب میں آجاتا ہے کیونکہ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا تیرہ سال تک مسیح موعود جو کچھ کہتار ہا غلط کہتارہا۔سو میں نے پہلے بتادیا ہے کہ ایسے اور بھی واقعات ہیں کہ مسیح موعود کو جن کی سمجھ بہت مدت کے بعد دی گئی اور جب تک کامل انکشاف نہ ہوا۔آپ عام عقیدہ کا اظہار کرتے رہے۔اور میں انشاء اللہ آگے چل کر یہ بھی بتاؤں گا کہ با وجود ایک حد تک تاویل کرنے کے آپ کا دعویٰ شروع دن سے ایک ہی تھا اور تغیرّ ایک ایسی قسم کاتھاجس کے ہونے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔انشاء الله تعالیٰ دوسری فصل اس باب میں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کس قسم کی تھی ابتدائے مضمون میں میں نے جناب مولوی صاحب کے مضمون کا خلاصہ دو سوالوں میں کیا تھا۔اول یہ کہ آیا حضرت صاحب کے دعوے پر دو زمانے آئے ہیں یا ہمیشہ آپ اپنی نبوت کو ایک ہی قسم کی خیال کرتے رہے۔کیونکہ اسی سوال کے حل ہونے پر یہ فیصلہ ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی کن تحریرات سے ہمیں اس امر کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ آپ کامذہب نبوت کے بارے میں کیا تھا کیونکہ بغیر اس کے دقت ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص اگر حضرت صاحب کی کتاب سے وفات و حیات مسیح کا مسئلہ دریافت کرنا چاہے اور اس امر کا فیصلہ نہ کرے کہ اس مسئلہ میں آپ کے دو عقیدے تھے۔تو وہ براہین احمدیہ کو دیکھ کر ٹھوکر کھائے گا۔اور سمجھے گا کہ حضرت صاحب کی تحریروں میں اختلاف ہے یا یہ کہ براہین کو پہلی کتاب خیال کر کے اسے محکم قرار دے گا۔اور بعد کی کتب کی تاویلات کرنی شروع کر دے گا۔لیکن اگر اسے خود حضرت صاحب کی کتب سے معلوم ہو جائے گا کہ اس مسئلہ میں آپ کے دو عقیدے رہے ہیں۔ایک پہلے رائج الوقت عقائد کی بنا ء پر۔اور ایک بعد میں انکشافات سماویہ کی بناء پر۔تو اسے اب کوئی دقت نہ رہے گی اور وہ براہین احمدیہ کے بعد کی کتب سے اس مسئلہ کی تحقیقات کرے گا۔اور یہی حال تمام مسائل کا ہے۔مثلا نماز، نکاح ،جنازه وغیرہ من السائل کا کہ ایک وقت میں ان کے متعلق اور فتویٰ دیا ہے۔اور دوسرے وقت میں اور پس جب تک انسان یہ نہ معلوم کرے کہ ان مسائل میں آپ نے دو مختلف اوقات میں مختلف احکام