انوارالعلوم (جلد 2) — Page 351
ا۳۵ روحانی خزائن جلد ۲۱ ص۳۰۶۔۳۰۵) اس جگہ حضرت مسیح موعودؑ نے نبی کے حقیقی معنوں کے رو سے اپنے آپ کونبی کہا ہے پس جوفتویٰ مجھ پر لگاتے ہو وہ خود حضرت مسیح موعوزدؑپر لگے گا۔اور اب تمہاری جو مرضی ہو کہو۔کیونکہ جو کچھ بھی کہو اس میں میں اور حضرت مسیح موعودؑدونوں شریک ہوں گے اور اس سے زیادہ خوشی مجھے کیا ہو سکتی ہے کہ میں مسیح موعودؑ کے کلام کے بیان کرنے پر دکھ دیا جاؤں اور مجھے برا بھلا کہا جائے۔مگر خوب یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود پر فتوی لگانے والا الہیٰ گرفت کے نیچے ہے اور یہ مقام سخت خطرہ کا مقام ہے۔میرا قول حضرت مسیح موعود ؑکے قول کے خلاف نہیں آپ نے حقیقی نبی کی ایک اصطلاح قرار دی ہے۔اور اس کے معنی یہ کیے ہیں کہ جو نئی شریعت لاۓ اور ان معنوں کے روسے آپ نے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔اور میں بھی ان معنوں کی روسے آپ کے حقیقی نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ہاں آپ نے نبی کے حقیقی معنی یہ فرمائے ہیں کہ وہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائے۔اور بتاؤ کہ جو شخص ان معنوں کے رو سے جو حقیقی معنی ہیں نبی ہو وہ حقیقی نبی ہو گا یا نہیں؟۔اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ تو فرمایا ہے کہ نبی کے حقیقی معنی یہ ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ ایسا شخص حقیقی نبی ہوگا تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ جو حقیقی معنوں کے روسے ایک نام حاصل کرے گی وہ حقیقی بھی ہوگی۔اگرنبی کے حقیقی معنوں کے روسے نبی کہلانے والا حقیقی نبی نہیں تو کیا جو شخص غیر حقیقی معنوں کے رو سے نبی کہلائے گا۔لغت اسے حقیقی نبی کہے گی۔پس حضرت مسیح موعود ؑ کانبی کے حقیقی معنی بتانا اور ان کے ماتحت اپنے نبی ہونے کا اقرار کرنا ثابت کرتاہے کہ آپ نے اگر ایک اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے تو ایک عام معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے کا اقرار بھی کیا ہے اور اسی رنگ میں میں نے بھی لکھا ہے کہ اگر حقیقی نبی کے دو اصطلاحی معنی نہ لیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے کئے ہیں بلکہ اسے بناوٹی یا نقلی کے مقابلہ پر رکھیں تو ان معنوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود ؑحقیقی نبی ہیں۔ہاں اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے نہیں۔اس امر کے زیادہ واضح کرنے کے لئے میں ایک مثال دیتا ہوں جس سے ہر ایک شخص آسانی سے اس مسئلہ کو سمجھ سکے گا۔آنحضرت ﷺنے کلمہ کے معنی جملے یا فقرہ کے کئے ہیں۔اور عام استعمال میں یہی معنی آتے ہیں۔لیکن نحویوں کی اصطلاح میں کلمہ ایک مفرد لفظ کو کہتے ہیں اور جب کبھی ایک نحوی کی کتاب میں کلمہ کا لفظ آۓ گا تو اس سے مراد ایک لفظ ہو گا نہ فقره