انوارالعلوم (جلد 2) — Page 16
۱۶ اور بعض تو ایسے جوش میں تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور بیعت کو لغو قرار دیتے تھے تو کیا اس کا یہ نتیجہ سمجھنا چاہئے کہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ حضرت ابوبکرؓ کو خلافت کی خواہش تھی کہ صرف تین آدمیوں کی بیعت پر آپ بیعت لینے کے لئے تیار ہوگئے اور باوجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت ناجائز تھی۔مگر جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔پس جب کہ ایک شخص کی دوہزار آدمی بیعت کرتے ہیں اور صرف چند آدمی بیعت سے الگ رہتے ہیں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ خلافت ناجائز ہے۔اگر اس کی خلافت ناجائز ہے تو ابوبکرؓ، عثمان و علی اور نورالدین رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ کی خلافت اس سے بڑھ کر ناجائز ہے۔پس خدا کا خوف کرو اور اپنے منہ سے وہ باتیں نہ نکالو جو کل تمہارے لئے مصیبت کا باعث ہوں۔اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور وہ سلسلہ جو اس کے مامور نے سالہا سال کی مشقت اور محنت سے تیار کیا تھا اسے یوں اپنے بُغضوں اور کینوں پر قربان نہ کرو۔مجھ پر اگر اعتراض ہوتے ہیں کیا ہوا مجھے وہ شخص دکھاؤ جس کو خدا نے اس منصب پر کھڑا کیا جس پر مجھے کیا… اور اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو۔جب کہ آدمؑ پر فرشتوں نے اعتراض کیا تو میں کون ہوں جو اعتراضوں سے محفوظ رہوں۔فرشتوں نے بھی اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا اور ابلیس نے بھی اپنی بڑائی کا دعویٰ کیا تھا مگر بے خدمت آدمؑ جو ان کے مقابلہ میں اپنی کوئی بڑائی اور خدمت نہیں پیش کر سکتا تھا خدا کو وہی پسند آیا اور آخر سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔پس اگر آدمؑ کے مقابلہ میں فرشتوں نے اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے بڑی بڑی خدمات کی ہیںو نحن نسبح بحمدک و نقدس لک(البقرة ۳۱) آج بھی وہی دعویٰ نہ پیش کیا جاتا۔مگر فرشتہ خصلت ہے وہ انسان جو ٹھوکر کھا کر سنبھلتا ہے اور خدا تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو تکبر کی وجہ سے آخر تک اطاعت سے سرگردان رہے۔پس اے میرے دوستو! تم فرشتہ بنو اور اگر تم کو ٹھوکر لگی بھی ہے تو توبہ کرو کہ تا خدا تمہیں ملائکہ میں جگہ دے ورنہ یاد رکھو کہ فتنہ کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔کیا تمہیں مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں؟ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا دوسرا نام فضل عمر ہوگا اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے۔پس مجھے بتاؤ کہ عمرؓ کون تھا؟ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو کہ وہ دوسرا خلیفہ تھا۔پس میری پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپرد وہ کام کیا جائے جو حضرت عمرؓ کے سپرد ہوا تھا۔پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے ماننے میں کیا