انوارالعلوم (جلد 2) — Page 282
انوار العلوم جلد۲ ۲۸۲ الجواب:یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالی ٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہےنہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔لأجودنفست مث روب الخطاب یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنےلئے نہیں چاہتا۔یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں ہے۔رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہوگیا۔سواس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگر چہ خداتعالی ٰنے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا۔اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا۔اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنانہ چاہا کہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقادوہی رکھاجو عام مسلمانوں کا تھا او راسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہٰی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہانشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے۔اور خدا کے چمکتےہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیاتو آیات قظعیۃ الدلات سے ثابت ہوا کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر ای امت میں سے آئے گا۔اورجیسا کہ جب دن چڑھ جاتا تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی اسی طرح صد ہانشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئےمجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعودمان لوں۔میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔مجھےاس بات کی ہرگز تمنانہ تھی۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیده ر ہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں