انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 238

۳۳۸ پھانسی پانے والا کون تھا۔ہوشیار ہو جاؤ: میں تمہیں بڑے زور سے بتلا تا ہوں کہ دنیا میں لوگ خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے ہیں۔حالانکہ اس سے بڑھ کر خوبصورت ،اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا، اس سے بڑھ کر پیار ااور کوئی نہیں ہے۔تم لوگ اگر پیار کرو تو اس سے کرو۔محبت لگاؤ تو اسی سے لگاؤ ،ڈرو تو اسی سے ڈرو،خوف کرو تو اسی سے کرو۔اگر وہ تمہیں حاصل ہو جائے تو پھر تمہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں رہ جاتی اور کوئی روک تمہارے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔پس تم اپنے نفسوں کو پگھلاؤ اور تبدیلی پیدا کرلو۔اﷲ تعالیٰ کیا ہے اور کیسا خوبصورت ہے اس کا بیان سورہ فاتحہ میں پڑھ لو۔اگر تم اس کی خوبصورتی کا ایک جلوہ دیکھ لو۔تو پھر کسی خوبصورتی کے دیکھنے کی تمہیں حاجت نہیں ہے۔انسان دنیا کی کسی خوبصورت چیز کو دیکھ کر اس پر لٹو ہو جاتا ہے۔لیکن اسے دل میں سوچنا چاہئے کہ جس ہستی نے اس خوبصورت چیز کو بنایا ہے وہ کس قدر خوبصورت ہوگی۔اﷲ تعالیٰ کا جلوہ دیکھنے کے لئے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر انسان کے دل میں خدا کا جلوہ ہے۔اگر وہ غور کرے تو بہت جلد ی اس تک پہنچ سکتا ہے۔دنیا کی ہر ایک چیز اور ایک ایک ذرّہ خدا تعالیٰ کے وجود پر شہادت دے رہا ہے۔اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پکار پکار کر خالقِ کون و مکان کی گواہی نہ دے رہی ہو۔کاغذ ،قلم ،میز کرسی، زمین جس پر تم بیٹھے ہو، کپڑے جو تم پہنے ہوئے ہو، تمہارے ہاتھ ،پاؤں ،ناک، کان، ہر ایک خدا کی ہستی پر دلالت کر رہے ہیں۔عمدہ کپڑے ، خوبصورت عورت ،اعلیٰ خوراک، مال و دولت کو لوگ پسند کرتے ہیں۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ ذرا تم اس بات پرتو غور کرو کہ جو ان کو پیدا کرنے والا ہے وہ کس قدر خوبصورت ہوگا۔پھر تم کیوں اس سے محبت نہیں کرتے۔’’اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔لَا تاْخُذُہ، سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ۔لَہ، مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہ، اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ۔وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔وَلَا یَؤُدُہ، حِفْظُھُمَا۔وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔‘‘ (البقرہ:۲۵۶) یہ بڑی زبردست آیات ہیں۔ان میں نہایت عالیشان تعلیم ہے رسول کریم ﷺ رات کو سوتے وقت تین دفعہ ان آیات کو پڑھ کر اپنے بدن پر پھونکتے تھے۔پس ہر ایک مسلمان پر آپ کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے۔ان آیات میں پہلی بات جس کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے اَللّٰہْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھْوَہے یعنی اے انسان خدا کو دیکھ کہ صرف وہی تیر امعبود ہے۔اور اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔دنیا میں ہر ایک چیز کی قدر اسکی کمیابی اور بہتات کی وجہ سے ہوتی ہے