انوارالعلوم (جلد 2) — Page 209
۲۰۹ احمدی غیر احمدی کا نکاح اور کفو کا سوال تیسرا اہم مسئلہ جس پر میں آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نکاح کا سوال ہے اور اسی کے ضمن میں کفو کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو شادیوں کے متعلق جو مشکلات پیش آتی ہیں مجھے پہلے بھی ان کا علم تھا لیکن اس ۹ماہ کے عرصہ میں تو بہت ہی مشکلات اور رکاوٹیں معلوم ہوئی ہیں اور لوگوں کے خطوط سے معلوم ہوتاہے کہ اس معاملہ میں ہماری جماعت کو سخت تکلیف ہے۔حضرت مسیح موعودؑ نے اس کے متعلق یہ تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھے جائیں اور آپ نے یہ رجسٹر کسی شخص کی تحریک پر کھلوایا تھا۔اس نے عرض کیا تھا کہ حضور شادیوں میں سخت دقت ہوتی ہے آپ کہتے ہیں کہ غیروں سے تعلق نہ پیدا کرو۔اپنی جماعت متفرق ہے اب کریں تو کیا کریں؟ ایک ایسا رجسٹر ہو جس میں سب ناکتخد ا لڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوں تارشتوں میں آسانی ہو حضور سے جب کوئی درخواست کرے تو اس رجسٹر سے معلوم کر کے اس کا رشتہ کروادیا کریں۔کیونکہ کوئی ایسا احمدی نہیں ہے جو آپ کی بات نہ مانتا ہو۔بعض لوگ اپنی کوئی غرض درمیان میں رکھ کر کوئی بات پیش کیا کر تے ہیں اور ایسے لوگ آخر میں ضرور ابتلاء میں پڑتے ہیں اس شخص کی بھی نیت معلوم ہوتا ہے درست نہ تھی۔انہیں دنوں میں ایک دوست کو جو نہایت مخلص اور نیک تھے شادی کی ضرورت ہوئی۔اسی شخص کی جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ رجسٹر بنایا جائے ایک لڑکی تھی۔حضرت مسیح موعود ؑ نے اس دوست کو اس شخص کا نام بتایا کہ اس کے ہاں تحریک کرو لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذر کر کے رشتہ سے انکار کر دیا اور لڑکی کہیں غیر احمدیوں میں بیاہ دی۔جب حضرت صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو آ پ نے فرمایاکہ آج سے میں شادیوں کے معاملہ میں دخل نہیں دوں گا۔اور اس طرح یہ تجویز رہ گئی۔لیکن اگر اس وقت یہ بات چل جاتی تو آج احمدیوں کو وہ تکلیف نہ ہوتی جو اب ہو رہی ہے۔شادی ضروری ہے : ہر ایک قوم کے دنیامیں قائم رہنے اور ترقی کرنے کے لئے شادیوں کا ہونا ضروری ہے اور اﷲ تعالیٰ کا بھی حکم ہے کہ شادی کی جائے پھر آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں کہ ہر ایک مومن کو شادی میں رہنا چاہئے جو بغیر شادی کے مرتا ہے وہ بطال ہے۔لیکن احمدیوں کے لئے اس ضروری مرحلہ کے طے کرنے کے لئے بہت سی دقّتیں ہیں اور وہ