انوارالعلوم (جلد 2) — Page 201
سیاسی معاملات میں پڑنے کا دوسرا خطرناک نتیجہ : سیاست میں جتھے کی ضرورت ہوتی ہے اگر کچھ آدمی کھڑے ہو کر گورنمنٹ سے کسی بات کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ ان کا مطالبہ پورا کرتی ہے۔لیکن ہر ایک بات کے پورا کرنے میں وہ اس بات کا لحاظ رکھتی ہے کہ لوگوں کی کثرت کس طرف ہے۔اگر آج لوگ گورنمنٹ سے کوئی مطالبہ کریں گے تو گورنمنٹ انہی کے مطالبات پورے کر ے گی جو زیادہ ہوں گے۔لیکن تم اپنے حال پر غور کرو دوسروں کے مقابلہ میں تمہارا جتھا ہی کیا ہے کہ تم کچھ منوا سکو؟ہماری اپنی حالت تو یہ ہے کہ کوئی دشمن ہمیں تنگ کرتا ہے ،تکلیفیں دیتا ہے، دکھ پہنچاتا ہے تو ہم کو گورنمنٹ کے سپاہی ہی اس سے بچاتے ہیں۔تو سیاست کی وجہ سے ہمیشہ وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جس کا جتھا ہوتا ہے۔اگر ایک سکول کے لڑکے سٹرائک کریں اور سٹرائک کرنے والوں کی تعداد سٹرائک نہ کرنے والوں سے کم ہو تو سٹرائک کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسی صورت میں افسر سٹرائک کرنے والے طلباء کو خارج کردیں گے۔لیکن اگر استقلال سے اکثر حصہ یا سب کے سب طلباء سٹرائک کریں گے تب ان کو کامیابی کی امید ہوسکے گی ورنہ سخت ناکام ہوں گے۔لیکن تم بتاؤ کہ تمہارے ساتھ کون سا جتھا اور کون سی جماعت ہے۔سیاست میں پڑ کر چھوٹی قوم بڑی میں جذب ہو جاتی ہے:یہ ایک تجربہ شدہ بات ہے کہ جو چھوٹی جماعتیں سیاست کی طرف اپنا رخ کرتی ہیں انہیں اپنا جتھا بنانے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بغیر جتھے کے کوئی قوم سیاسی امور میں کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے وہ دوسروں سے ملنا جلنا شروع کر دیتی ہیں۔چونکہ وہ خود چھوٹی ہوتی ہیں اس لئے بجائے اس کے کہ اوروں کو اپنے ساتھ ملائیں خود ان میں جذب ہو کر اپنی ہستی فنا کر لیتی ہیں۔دیکھو آج جوہماری جماعت کو نقصان پہنچا ہے وہ بھی اسی سیاست کی وجہ سے پہنچا ہے پہلے پہل تو ہماری جماعت کے چند لوگ سیاست کی طرف متوجہ ہوئے لیکن چونکہ سیاست ہمیشہ جتھا چاہتی ہے اسلئے ان کو دوسری جماعتوں میں شامل ہونا پڑا اور ابتداء میں تو وہ یہ کہتے رہے کہ اس میل جول کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لائیں گے لیکن رفتہ رفتہ خود ان میں جذب ہونے لگے۔اول وہ انجمن حمایت اسلام کے ممبر بنے پھر اور زیادہ جو سیاست کی چاٹ لگی تو مسلم لیگ میں شامل ہو گئے پھر جب دیکھا کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے ان لوگوں میں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے تو آہستہ آہستہ بڑی جماعت کو خوش کرنے اور خود