انوارالعلوم (جلد 2) — Page 199
۱۹۹ کہ ایسی کوئی دیوار تھی کہ جو اسے دیکھتا تھا وہ اس کے اندر ہی غائب ہو جاتا تھا۔لیکن اس پر غور کریں تو سیاست ایک ایسی ہی دیوار ہے۔چونکہ انسان کی طبیعت عاجلہ کو پسند کرتی ہے اور جس کام کا فائدہ اسے جلد مل جائے وہ اسے بہت پسند کرتا ہے اور دیر کو پسند نہیں کرتا اس لئے لوگ ایسے کاموں کے درپے ہو جاتے ہیں جن کے کرنے سے فوری فوائد حاصل ہوں۔اور سیاست بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کے فوائد جلد تر حاصل ہوتے ہیں۔پس جب لوگ دیکھتے ہیں کہ سیاست کی وجہ سے جلدی دولت ،حکومت اور رتبہ مل جاتا ہے تو اس کی طرف دوڑنے لگ پڑتے ہیں۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ جب ایک دفعہ شیر کے منہ کو آدمی کا لہو لگ جاتا ہے تو پھر وہ ہر وقت انسان کے شکار کی تاک میں ہی رہتا ہے۔اور پہلے اگر ایک دو آدمیوں سے بھاگ جاتا تھا تو پھر تیس چالیس آدمیوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اسی طرح سیاست کا خون جس کسی کے منہ کو لگ جاتا ہے پھر وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا اور اس کے اندر ہی اندر گھستا جاتا ہے۔سیاسی معاملات میں پڑنے کا پہلا خطر ناک نتیجہ : چونکہ ایک طرف تو سیاست ایک ایسی چیز ہے جو اور سب کچھ بھلا دیتی ہے حتّٰی کہ جان تک کی بھی ہوش نہیں رہنے دیتی اور اپنی طرف ہی کھینچتی جاتی ہے۔اور دوسری طرف آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے اس سے پہلے اس پر کبھی نہیں آیا اس لئے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لئے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی اسلام کی حفاظت کے لئے مل جائیں اتنے ہی کم ہیں۔ا س لئے آج مسلمانوں کے لئے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ نا ممکن ہے کیونکہ سیاست بہت بڑی توجہ کو چاہتی ہے اور جو شخص سیاست میں پڑتا ہے وہ بالکل سیاست ہی میں غرق ہو جاتا ہے۔آج یورپ میں ایسی جنگ ہو رہی ہے کہ ہر ایک سلطنت کو جس قدر بھی سپاہی مہیا ہو سکتے ہیں اتنے ہی مہیا کرتی ہے اور عورتوں اورلڑکے لڑکیوں تک کو لڑائی میں مدد دینے کے قواعد سکھائے جا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی خطرناک جنگ ہے کہ تھوڑے سپاہیوں سے کام نہیں چل سکتا۔مگر اسلام کو جو جنگ در پیش ہے وہ اس یورپین جنگ سے بہت بڑھ کر ہے اور اکیلے اسلام کو کل دنیا سے مقابلہ ہے اور دشمن ایسا قوی ہے کہ اسلام کے ایک ایک سپاہی کے مقابلہ میں ہزاروں سپاہی لا سکتا ہے۔جو مسلمان ہیں وہ خود اسلام سے بیزار ہو رہے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں ورنہ اسلام سے وہ ایسے ہی دور ہیں جیسے کہ غیر مذاہب کے لوگ۔پس اس جنگ میں چند آدمی کا میاب نہیں ہو سکتے بلکہ ہر ایک مرد، بچہ اور عورت کو اس