انوارالعلوم (جلد 2) — Page 169
۱۶۹ مطلب کی طرف کلام کی رَو پھیرنے کے لئے کہا کہ میاں صاحب آپ کے خط پر خود آپ کے پاس آئے ہیں۔ابھی یہ بات اُنہوں نے کہی ہی تھی کہ مولوی صاحب نے ایک ایسی حرکت کی جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ ہمیں ٹالنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ ان کا مطلب یہ نہ ہو اس وقت انہیں کم از کم یہ تو خیال کرنا چاہیے تھا کہ ہم گو اسے نہیں مانتے لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس کو امام تسلیم کیا ہے۔ایک آدمی جس کا نام بگا ہے وہ کوٹھی کے باہر اُن کو نظر آیا اُنہوں نے فوراً اُس کو آواز دی کہ آ میاں بگا تو لاہور سے کب آیا؟ کیا حال ہے؟ اور اُس سے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔یہ دیکھ کر ہم اُٹھ کر چلے آئے۔میں نے ان کی اس حرکت سے یہ نتیجہ نکالا کہ شاید وہ اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنی ہی نہیں چاہتے۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ان کی یہ منشاء تھی یا نہ لیکن میرے دوسرے ساتھیوں کا بھی ایسا ہی خیال تھا اس لئے ہم چلے آئے۔اتحاد کی کوششاِن باتوں کے علاوہ میں نے قوم کے اتحاد اور اتفاق کے قائم رکھنے کے لئے اور بھی تجویزیں کیں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح کی حالت بہت نازک ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ مجھے فتنہ گر کہتے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں قادیان سے چلا جاؤں اور جب اس بات کا فیصلہ ہو جائے تو پھر آ جاؤں گا۔میں نواب صاحب کی کوٹھی سے جہاں حضرت خلیفۃ المسیح بستر علالت پر پڑے تھے گھر آیا اپنی بیٹھک کے دروازے کھول کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے مولیٰ! اگر میں فتنہ کا باعث ہوں تو مجھے اس دنیا سے اُٹھا لیجئے یا مجھے توفیق دیجئے کہ میں قادیان سے کچھ دنوں کے لئے چلا جاؤں۔دعا کرنے کے بعد پھر میں نواب صاحب کی کوٹھی پر آیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ ہم ذمہ دار ہوں گے تم یہاں سے مت جاؤ۔میں ایک دفعہ قسم کھا چکا ہوں اور پھر اُسی ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو اس گھر(مسجد) کا مالک ہے اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو آسمان اور زمین کا حاکم ہے اور جس کی جھوٹی قسم لعنت کا باعث ہوتی ہے اور جس کی لعنت سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا کہ میں نے کسی آدمی کو کبھی نہیں کہا کہ مجھے خلیفہ بنانے کے لئے کوشش کرو اور نہ ہی کبھی خدا تعالیٰ کو میں نے یہ کہا کہ مجھے خلیفہ بنائیو۔پس جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے خود اپنے فضل سے چن لیا ہے تو میں کس طرح اسے ناپسند کرتا؟ کیا اگر تمہارا کوئی دوست تمہیں کوئی نعمت دے اور تم اس کو لے کر نالی میں پھینک دو تو تمہارا دوست خوش ہوگا؟ اور تمہاری یہ حرکت درست ہوگی؟ ہرگز نہیں۔تو اگر خدا تعالیٰ نعمت دے تو کون ہے جو اس کو ہٹا سکے۔جب دنیا کے