انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 155

۱۵۵ بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم برکات ِخلافت تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی جو ۲۷ دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ کے موقع پر ہوئی اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَآمین۔میں نے کچھ ضروری باتیں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنی ہیں۔ان میں سے ایک وہ بات بھی ہے جو میرے خیال میں احمدیت کے لئے ہی نہیں بلکہ اسلام کے قیام کا واحد ذریعہ ہے اور جس کے بغیر کوئی انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی مسلمان مسلمان ہو سکتا ہے مگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر اس کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری باتیں ہیں مگر اس سے کم درجہ پر ہیں۔میں نے ارادہ کیا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور اُس کی رحمت ممد اور معاون ہوئی تو اِنْشَاء اللّٰہُ وہ بات جونہایت ضروری ہے اور جس کے پہنچانے کی مدت سے مجھے تڑپ تھی کل بیان کروں گا۔آج ارادہ ہے کہ درمیانی باتیں جو اس سے کم درجہ پر ہیں مگر ان کا پہنچانا بھی ضروری ہے وہ پہنچا دوں۔اس ضروری بات کو کل پر رکھنے سے میری یہ بھی غرض ہے کہ جو نعمت آسانی سے مل جاتی ہے اور جس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی اُس