انوارالعلوم (جلد 2) — Page 136
۱۳۶ نہیں لکھی گئی لیکن ان بیچاروں کو کیا معلوم کہ اسلام کی تائید میں اس شخص نے ایسی ایسی بے نظیر کتب لکھی ہیں کہ مخالف بھی ان کا جواب نہیں دے سکتےمگر وہ ان کی نظروں سے نہیں گزریں غرض کہ یہ ایک ایسا بے نظیر معجزہ ہے جس کی تائید مخالفین اسلام نے بھی کی ہے اور دشمنان اسلام نےبھی اقرار کیا ہے کہ اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کر کے دکھادیا گیا ہے اور یہی وہ کام ہے جس کے لئے مسیح موعود ؑنے مبعوث ہونا تھا پس جب زمانہ بھی وہی ہے علامات بھی پوری ہو چکی ہیں ضرورت بھی سخت ہے مدعی بھی موجود ہے اس نے وہ کام بھی کردیا ہے جس کے لئے مسیح موعود نے آناتھاتواس کی صداقت میں کونساشک باقی رہ جاتا ہے؟۔اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنے میں بہت بڑی حکمت یہی تھی کہ وہ مسیحی مذہب کامقابلہ کر کے اس کے زور کو توڑے گا چنانچہ اس کے لئے جسقدر سامان اس شخص نے مہیا کر دیئےہیں انکے مقابلہ کی مسیحیوں کو بالکل طاقت نہیں اصل بات یہ ہے کہ مسیحی مناد مسلمانوں کو ہمیشہ اس طرح بہکاتے ہیں کہ دیکھو ہمارا مسیح زندہ ہے تمہارا نبی فوت ہو گیا ہمارا مسیح مردے زندہ کرتاتھاتمہارے نبی نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔ہمارا مسیح آسمان پر ہے تمہارانبی زیرِ زمین دفن ہے تمہارا نبی اب کبھی دنیا پر نہیں آئے گا ہمارا نبی ایک دفعہ پھر دنیا سے ظلمت کو دور کرنے کے لئے آئے گااور آخری زمانہ کا فتنہ اسی کے ہاتھ سے دور ہو سکے گا۔پس بتا ؤکہ دونوں میں سے کون افضل ہوا۔اب یہ ایسے اعتراض ہیں جن کا جواب مسلمانوں سے کچھ نہ بنتا تھا اور اکثر گمراہ ہو جاتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود ؑنے زبردست دلائل سے اس خیال کو غلط ثابت کرکے مسلمانوں کو مسیحیوں کےہاتھ سے بچالیا اور اب مسیحیوں کی یہ حالت ہے کہ جہاں وہ یہ سن لیں کہ کوئی احمدی موجود ہے کبھی مقابلہ کی جرأت نہیں کرتے اور فور اًوہاں سے بھاگ جاتے ہیں بلکہ چند سال کی بات ہے کہ پنجاب کے لاٹ پادری لیفراۓ صاحب نے ایک سرکلر کے ذریعہ پادریوں کو احمدیوں سے گفتگو کرنےسے روک دیا تھا کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ مسیحیوں کے لئے شکست ہی ہوتا تھا۔مرزا صاحب نے مسیح کی وفات ثابت کر کے اسلام کو زندہ کر دیا ہے اور اب مسلمان ہمیشہ کے لئے مسیحیوں کے پنجہ سے رہائی پا گئے ہیں۔میں اسکو مانتا ہوں کہ یہ عقیدہ ہمیشہ سے مسلمانوں میں چلا آیا ہے اور قرون اولی ٰمیں تو یہی عقيد ہ رائج تھا لیکن اسلام کے بچانے کے لئے اس حربہ کو بھی کسی شخص نے استعمال نہیں کیا بلکہ یہ خصوصیت حضرت مسیح موعود ؑکے لئے ہی محفوظ رکھی گئی تھی۔