انوارالعلوم (جلد 2) — Page 131
۱۳۱ ہے کیونکہ دجال ظاہر ہو چکا ہے اور دیگر آیات بھی پوری ہو چکی ہیں اور چونکہ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں صرف ایک ہی شخص مدعی ہے اس لئے اس کے دعوے کو ماننے کے سوا کوئی چاره نہیں ورنہ تکذیب قرآن کریم و احادیث آنحضرت ﷺ لازم آتی ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب موعود ؑو مہدی مسعود کے دعوے پر جو آیات قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ شاہد ہیں ان میں سے چند بطور نمونہ میں پہلے لکھ آیا ہوں مگر یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی ٰنے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ آپ کی تائید میں اس قدر نشانات دکھائے ہیں اور ایسے زبردست دلائل سے آپ کی صداقت کو ثابت کیا ہے کہ ان کے بیان کرنے کی اس مکتوب میں گنجائش نہیں بلکہ وہ نہایت ضخیم کتب میں بیان ہو سکتی ہیں اور اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں جنکی تعداداسی (۸۰) سے بھی اوپر ہے درج ہیں اگر جناب کو اللہ تعالیٰ اس طرف متوجہ کرے کہ اس ہدایت کی تحقیقات فرما دیں تو وہ کتب جناب کی خدمت میں پیش کی جاسکتی ہیں مگر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان نشانات سے جو آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے ہیں چند ایک بطور نمونہ بیان کردوں تاکہ آپ کے دعوے پر چند اور شہادتوں سے جناب کو آگاہی ہو جائے۔اول تو میں آپ کا نہایت زبردست علمی معجزه بیان کرتا ہوں جو قرآن کریم کے معجزہ کے مشابہ ہے اور وہ آپ کی بے نظیر عربی کتب ہیں جن کے ساتھ آپ بارہا اعلان کرتے رہے ہیں کہ مصرو شام و عرب کے علماء بھی اگر ل کر انکی نظیر لانا چاہیں گے تو نہ لا سکیں گے اور بعض کتب کے ساتھ آپ نے انعام بھی مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی ان کی نظیرلاسکے تو میں اسے اس قدر انعام دونگا لیکن تعجب ہے کہ با و جود اس قدر عداوت کے جو علماء کو آپ سے تھی اور ہے اس وقت تک کسی شخص کوآپ کی عربی کتب کے مقابلہ کی جرات نہیں اور جبکہ ایک شخص نے کوشش کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پیشتر اس کے کہ اس کی کتاب ختم ہو کرطبع ہوتی اس دنیا سے اٹھالیا اور اس طرح اپنے مامور کی صداقت کو ثابت کر دیا اللہ تعالی ٰکے فضل سے اس وقت ہماری جماعت کے آدمی مصر و شام و عرب میں موجود ہیں اور آپ کی کتب کو ان ممالک میں شائع کیا گیا ہے لیکن اس وقت تک کسی شخص کو جرأت نہیں ہو سکی کہ انکے مقابلہ پر کوئی کتاب تصنیف کرے بلکہ بیروت کے بعض بڑے بڑے علماء نے یہ کتابیں طلب کی ہیں اور ان کی خوبی کے مقرّ ہیں چنانچہ پچھلے دنوں میں بیروت کے ایک عالم مدرسہ سوریہ کے مہتمم صاحب نے اور ایک دوسرے صاحب نے حضرت کی عربی کتب طلب کی ہیں اور ارادہ ظاہر کیا ہے کہ ان سے اپنے اہل ملک کو بھی فائدہ پہنچائیں اسی طرح جامع ازھر