انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 129

۱۲۹ اسی طرح قرآن کریم میں خلق کے معنوں میں بھی نزول کالفظ آتا ہے جیسا کہ فرمایا وانزلنا الحديد (الحدید: ۲۶) یا یہ کہ يبني ادم قد انزلنا عليكم لباسا یواری سواٰتکم و ریشا (العراف : ۲۷) پس لفظ نزول سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان سے نازل ہو گئے کیونکہ آسمان کا لفظ احادیث میں اس جگہ استعمال نہیں کیاگیا۔اب میں دوسرے شبہ کا ازالہ بھی کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ چونکہ ابھی تک د جال ظاہر نہیں ہوا اس لئے یہ مسیح بھی نہیں آسکتا اس کے جواب میں میں یہ عرض کرونگا کہ دجال ظاہر ہو چکا ہے لیکن لوگوں نے اسے پہچانا نہیں دجال کے معنے قاموس میں لکھے ہیں کہ فرقة عظيمة تحمل المتاع للتجارة دجاّل ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں کہ جو اموال تجارت کو دنیا میں لئے پھریں پھر دجال کے معنے ہیں ملمع ساز کے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت کوئی ایسی قوم بھی ہے یا نہیں جس کی تجارت سب دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور جو نہایت ملمّع ساز ہے۔تو ہماری نظر فوراً یورپین تاجروں اور پادریوں کی طرف پھر جاتی ہے جومسیح کی خدائی کو عجیب رنگ آمیزی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس وقت جس قدر عظیم فتنہ پادریوں کا ہوا ہے اس کی نظیر بھی نہیں ملتی چو نکہ وہ اس کثرت سے دنیا میں پھیل گئے ہیں کہ ہر علاقہ میں ان کے آدمی موجود ہیں جو لوگوں کو صراط مستقیم سے پھیر کر اور اور راہوں پر چلانا چاہتے ہیں اور ان کے فتنہ کا مقابلہ مسلمانوں کی طاقت سےباہر ہے آنحضرت ﷺنے بھی دجال سے مراد اشاعت مسیحیت ہی لی ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنہ سے محفوظ رہنا چاہے وہ سورہ کہف کی دس اول کی آیتیں اور دس آخر کی آیتیں پڑھے اور ان دونوں مقامات میں مسیحیوں کا ذکر ہے اور خدا کا بیٹاماننے پر ناراضگی ظاہر کی گئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے مراد آنحضرتﷺ کے نزدیک بھی مسیحی فتنہ ہی ہے جن کے پادری اور دعاۃ دنیا کے ہر حصے میں پھر کر ایک خدا کی بجائے تین خداؤں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں ورنہ آپﷺ دجالی فتنہ سے بچنے کے لئے وہ آیات تلاوت کرنے کا حکم نہ فرماتے جن میں مسیح مذہب کاردّ ہے۔اب جناب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دجال آگیا ہے اور یہ کہ دجالی فتنہ سے مراد پادریوں کا فتنہ