انوارالعلوم (جلد 2) — Page 76
۷۶ جائے گا۔اور خدا تعالی ٰکے سامنے تو نیک اعمال ہی جائیں گے پس دین اسلام کے لئے اپنے أموال کی کچھ پرواہ نہ کرو۔کیا آج تک اللہ تعالی ٰنے آپ سے بخل کیا ہے کہ آئندہ کرے گا۔تمام جماعتوں کے سیکرٹریوں کو اور ان لوگوں کو جن کو خدا تعالیٰ اس کام کے لئے ہمت دےچاہئے کہ فورا ًاس اعلان کے پہنچتے ہی دوستوں کو سنائیں اور خاص طور پر تحریک کر کے چند ه بھجوائیں تاکہ فوراً کام شروع کردیا جائے۔روپیہ براہِ راست میرے نام بھیجیں۔کیونکہ اس سے دعا کی تحریک ہوتی ہے ہاں رسید یں انجمن کے سیکرٹری مولوی شیر علی صاحب بی اے کے دستخط سے روانہ ہوگی۔کیونکہ حساب و کتاب انہیں کے زیر نگرانی ہو گا۔جماعت کے مخلصین کے لئے یہ ایک امتحان کا موقعہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ غیر معمولی اخلاص کا نمونہ دکھائیں گے۔ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انجمن کے ماہوار چندوں پر اس چندہ کا کوئی اثر نہ پڑے۔اور جو شخص ان چندوں میں کمی کر کے اس طرف چندہ دے گا وہ خداتعالی ٰکےنزدیک زیرِ مواخذہ ہو گا کیونکہ و ہ و عد ہ خلافی کرے گا اور یہ دانائی سے بعید ہے۔کہ ایک بچے کو بچانےکے لئے دوسرے بچے کو قتل کیا جائے۔پس جو کچھ دوماہوار چندوں سے زائد دو اور اس بات کو مد نظررکھو کہ خداتعالی ٰکبھی اس ایثار کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ آپ دیکھیں گے کہ خدا تعالی ٰکا ہاتھ آپ کے اندر کام کرتا ہو گا۔انشاء اللہ تعالیٰ - انصار اللہ کہلانا بھی کچھ چھوٹا سا انعام نہیں پس آؤ تم سب انصار الله بن جاؤ اور اپنے اموال اور اپنی جانوں سے اشاعت اسلام میں لگ جاؤ۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔نوٹ:۔جس قدر تجاویز ۱۲ اپریل کے جلسہ میں ہوئی تھیں ان سب کا انتظام میں اس انجمن کے سپرد کر تا ہوں جس کے ممبر تا اطلاع ثانی یہ اصحاب ہوں گے۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب۔نواب محمد علی خان صاحب سید حامد شاہ صاحب۔مولوی شیر علی صاحب بی اے۔مرزا بشیر احمد صاحب - ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اسٹنٹ سرجن۔ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن پنشز۔سیٹھ عبدالرحمن صاحب۔حاجی اللہ رکھامد راس اور اسی وقت تک اس انجمن کی علیحدہ ضرورت ہو گی جب تک کہ مجلس معتمدین کا انتظام با قاعدہ نہ ہو۔جب انشاء اللہ مجلس معتمدن کی مناسب اصلاح ہو جائے گی تو پھر اس انجمن کی علیحدہ ضرورت نہ ہوگی بلکہ یہ کام بھی اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔آخر میں میں سب مبالغین کو پھر ہدایت کرتا ہوں کہ خدا تعالی ٰکے فضل پر بھروسہ کر کے اس