انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 64

۶۴ لوگ کہتے ہیں کہ کبھی خلیفہ نے انجمن کو کوئی حکم نہیں دیا مگر میں سیکرٹری کے دفتر پر کھڑا ہوںبہت ہی کم کوئی ایجنڈا نکلا ہوگا جس میں بحکم خلیفۃ المسیح نہ لکھا ہو۔یہ واقعات کثرت سے موجود ہیں اور انجمن کی روئدادیں اور رجسٹر اس شہادت میںموجود ہیں (اس مقام پر منشی محمدنصیب صاحب ہیڈکلرک دفتر سیکرٹری کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے بہ آواز بلند کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں یہ بالکل درست ہے اس قسم کے اعتراض تو فضول ہیں جو واقعات کے خلاف ہیں۔غرض اس وقت کچھ دِقتیں پیش آئی ہیں اور آئندہ اور ضرورتیں پیش آئیں گی۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ احباب غور کریں۔میں نے اس موجودہ اختلاف کے متعلق کچھ تجاویز سوچی ہیں ان پر غور کیا جائے اور مجھے اطلاع دی جائے۔میری غیر حاضری میں آپ لوگ ان پر غور کریں تا کہ ہر شخص آزادی سے رائے دے سکے۔اوّل: خلیفہ اور انجمن کے جھگڑے نپٹانے کی بہتر صورت کیا ہے۔انجمن سے یہ مراد ہے انجمن کے وہ ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنے آپ کو انجمن کہتے ہیں اس لئے میں نے انجمن کہا ہے صرف مبائعین رائے دیں۔دوم: جن لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے میں انہیں تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کا چندہ میری معرفت دیں۔یہ تجویز میں ایک رؤیا کی بناء پر کرتا ہوں جو ۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کاپی الہامات میں درج ہے اس کے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات درج ہیں اور اب بھی وہ کاپی موجود ہے یہ ایک لمبی خواب ہے اس میں میں نے دیکھا کہ ’’ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے اس پر لکھا ہے محمود احمد پرمیشر اس کا بھلا کرے۔خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہو گیا۔کہنے والا کہتا ہے کہ کچھ تم خود رکھ لو، کچھ حضرت صاحب کو دے دو، کچھ صدر انجمن احمدیہ کو دے دو‘‘ پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ ’’کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنی سورج سمجھائے گئے اور محمدچراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمد جو کہ سورج ہے اس کی طرف سے آیا ہے‘‘۔غرض یہ ایک سات سال کی رؤیا ہے حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جس