انوارالعلوم (جلد 2) — Page 60
۶۰ خذ من اموالھم صدقة تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے خلافت کہاں سے نکل آئی۔لیکن یہ لوگ یاد رکھیں کہ حضرت ابوبکرؓ پر جب زکوٰۃ کے متعلق اعتراض ہوا تو وہ بھی اِسی رنگ کا تھا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً۲۸؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے اب وہ رہے نہیں اور کسی کا حق نہیں کہ زکوٰۃ وصول کرے جسے لینے کا حکم تھا وہ فوت ہو گیا ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے یہی جواب دیا کہ اب میں مخاطب ہوں۔اِسی کا ہم آہنگ ہو کر اپنے معترض کو کہتا ہوں کہ اب میں مخاطب ہوں۔اگر اُس وقت یہ جواب سچا تھا اور ضرور سچا تھا تو یہ بھی درست ہے جو میں کہتا ہوں۔اگر تمہارا اعتراض درست ہوتو اس پر قرآن مجید سے بہت سے احکام تم کو نکال دینے پڑیں گے اور یہ کھلی کھلی ضلالت ہے۔ایک عجیب بات میں تمہیں ایک اور عجیب بات سناتا ہوں جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں تفاوت نہیں ہوتا۔اشتہارسبز میں میرے متعلق خدا کے حُکم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بشارت دی۔خدا کی وحی سے میرا نام اولوالعزم رکھا۔اور اس آیت میں فرمایا فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕاس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنا پڑے گا پھر میں اس کو کیسے ردّ کر سکتا ہوں۔کیا خدمت کی ہے؟ پھر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے کیا خدمت کی ہے؟ اس سوال کا حل تو اسامہؓ والی بات ہی میں موجود ہے۔اسامہؓ کی خدمات کس قدر تھیں کہ وہ بڑے بڑے صحابہ پر افسر مقرر کر دیا گیا۔خلافت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ہاں اس کا یہ فعل نَعُوْذُبِاللّٰہِ لغو نہیں ہوتا۔پھر خالد بن ولیدؓ، ابوعبیدہؓ، عمرو بن العاصؓ، سعد بن الوقاصؓ اُنہوں نے جو خدمات کیں ان کے مقابلہ میں حضرت عمرؓ کیا خدمات پیش کر سکتے ہیں مگر خلیفہ تو حضرت عمرؓ ہوئے۔وہ نہ ہوئے خدا تعالیٰ سے بہتراندازہ کون لگا سکتا ہے۔آیت استخلافمیں نے آیت استخلاف پر غور کیا ہے اور مجھے بہت ہی لطیف معنی آیت استخلاف کے سمجھائے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے بڑا مزا آیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔